سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

خون میں شکر کی مقدار کم رکھنے والا بہترین ناشتہ

صبح کا بہترین ناشتہ کیوں اہم ہے؟

عالمی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ دنیا بھر کی طرح ذیابیطس بھی بھارت کی وسیع آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق صبح کے وقت ایک مخصوص قسم کا ناشتہ ذیابیطس اور پری ڈایابیٹک کیفیت کو کافی حد تک قابو میں رکھ سکتا ہے۔

ذیابیطس کی غذاؤں کی ماہر، ڈاکٹر لورین ہیرس کے مطابق اگر ناشتے میں ریشہ (فائبر)، پروٹین اور لحمیات متوازن مقدار میں شامل ہوں تو اس کے جسم پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

🥣 دلیہ اور دہی کا جادوئی امتزاج

ڈاکٹر لورین ہیرس مشورہ دیتی ہیں کہ مکمل دلیہ (Oatmeal) کو پروٹین بھرے دہی میں ڈال کر کھانے سے پورے دن خون میں شکر کی مقدار معمول پر رہتی ہے۔

دلیہ میں فائبر کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے — ایک کپ دلیہ میں تقریباً 8 گرام فائبر موجود ہوتا ہے جو شکر کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرتا ہے اور جسم میں انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

🧬 فائبر کیوں ضروری ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق ایک عام شخص کو روزانہ 25 سے 38 گرام فائبر لینا چاہیے۔ یہ نہ صرف خون میں شکر کے اتار چڑھاؤ کو روکتا ہے بلکہ جسم میں قدرتی انسولین کی پیداوار میں بھی مدد دیتا ہے۔فائبر کی باقاعدہ مقدار ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

🥜 گری دار میوے اور پروٹین کے فوائد

دلیہ کو مزید غذائیت بخش بنانے کے لیے اس میں مونگ پھلی کا مکھن، بادام، پستہ یا اخروٹ شامل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ تمام گریاں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں، جو انسولین کی تاثیر کو بڑھاتی ہیں اور دن بھر توانائی فراہم کرتی ہیں۔البتہ، چینی ملانے سے مکمل اجتناب ضروری ہے تاکہ ناشتہ صحت مند اور قدرتی رہے۔

اگر آپ خون میں شکر کی مقدار کو قدرتی طور پر متوازن رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ صبح دلیہ، دہی اور گری دار میووں کا ناشتہ بہترین انتخاب ہے۔یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button