جہیز کے ظلم، سماجی دباؤ اور خاندانی روایات نے ہزاروں بیٹیوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ کچھ اسے والدین کی پرورش کی کمی سمجھتے ہیں، تو کچھ اسے معاشرتی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جہیز کی لعنت 97 فیصد گھروں میں اپنی جڑیں گہری کر چکی ہے، جہاں نکاح کم اور سودے بازی زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
جہیز کی لعنت اور معاشرتی بے حسی
جہیز کی وبا نے نکاح کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کچھ کھلے عام جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں، تو کچھ چالاکی سے تحفے کے نام پر اسے وصول کرتے ہیں۔ دولہا کے گھر والوں کے نخرے اور مطالبات والدین کو ذہنی اور مالی دباؤ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ مجبور والدین قرض لے کر بیٹی کی شادی کرتے ہیں، مگر نتیجہ پھر بھی عذاب کی صورت میں نکلتا ہے۔
مذہبی و سماجی رہنماؤں کی خاموشی
علمائے کرام، دینی جماعتیں اور فلاحی تنظیمیں جو بظاہر جہیز کے خلاف بیانات دیتی ہیں، عملی طور پر انہی تقاریب میں شامل ہوتی ہیں۔ نکاح کو آسان بنانے کے بجائے مہنگی شادیوں اور بےجا رسومات میں شریک ہو کر ریاکاری کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اگر یہی علماء اور تنظیمیں ایسی تقریبات کا بائیکاٹ کریں، تو معاشرتی رویوں میں بہتری آ سکتی ہے۔
بیٹیوں کے حقوق اور والدین کی ذمہ داری
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کسی بھی قیمت پر ایسے لالچی گھروں میں نہ بیاہیں، جہاں ان کی حیثیت صرف جہیز کی رقم پر منحصر ہو۔ اکثر اوقات والدین خود بھی جہیز دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو اس لعنت کو مزید بڑھاوا دیتا ہے۔ اگر تمام والدین عہد کر لیں کہ وہ جہیز نہ دیں گے، تو یہ مسئلہ خودبخود ختم ہو سکتا ہے۔
سماجی بیداری اور نکاح کو آسان بنانے کی ضرورت
بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔ نکاح کو آسان بنایا جائے، سادگی کو فروغ دیا جائے اور جہیز دینے اور لینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ ساتھ ہی، معاشرے کو اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ نہ ہر لڑکا ظالم ہوتا ہے اور نہ ہر لڑکی مظلوم۔ انصاف اور عدل کے اصولوں کو اپنانا ہوگا، تاکہ بیٹیوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔



