کولکاتہ ،28؍ ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کلکتہ ہائی کورٹ نے منگل کو حکم دیا ہے کہ بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر ہونے والا ضمنی انتخاب جس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی امیدوار ہیں اس کو منسوخ نہیں کیا جائے گا اور پولنگ جمعرات کو ہی ہوگی۔ ایک پی آئی ایل میں کولکاتہ کی بھوانی پور سیٹ پر ضمنی انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ’آئین ضروری‘ کی دلیل کو چیلنج کیا گیاتھا۔
2011 سے 2016 تک ممتا بنرجی کا انتخابی حلقہ رہی بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب اس لیے ضروری ہوگیا ہے، کیونکہ ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے سووندیب چٹوپادھیائے نے پارٹی کے سربراہ کو اسمبلی تک پہنچانے کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔
اس سیٹ پر اب ممتا بنرجی کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نوجوان رہنما 41 سالہ پرینکا ٹبریوال سے ہوگا ، جو کلکتہ ہائی کورٹ میں وکیل ہیں۔ممتا بنرجی جنہوں نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد تیسری بار چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا ،ان کو عہدے پر رہنے کے لیے بھوانی پور ضمنی انتخاب جیتنا ضروری ہے۔
ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان 3 اکتوبر کو کیا جائے گا۔آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو وزیر بننے کے چھ ماہ کے اندر قانون ساز اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے لیے منتخب ہونا لازمی ہے۔دراصل مارچ،اپریل 2021 میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی نے ریاست کی نندی گرام سیٹ بی جے پی کے شوبھیندوادھیکاری سے ہار گئی تھیں۔
اس سے قبل ، 23 ستمبر کو کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کمیشن سے پوچھا تھا کہ جنوبی کلکتہ کے بھوانی پور اسمبلی حلقہ میں ضمنی الیکشن کس مجبوری کے تحت کرایا جارہا ہے ۔کمیشن نے اس سوال کی روشنی میں ایک حلف نامہ جمع کیا ہے مگر عدالت اس حلف نامے پر برہمی کا اظہار کیا۔کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کے چیف سیکرٹری نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا تھا جس میں ضمنی انتخاب کی درخواست کی گئی تھی۔ خط میں آئینی بحران کا حوالہ دیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری کے اس خط پر الیکشن کمیشن نے اتفاق کیوں کیا ؟ اس کے علاوہ جب ریاست میں کئی اور سیٹوں پر انتخاب ہونے والے تھے تو پھر صرف بھوانی اور مرشدآباد کے دو حلقوں میںضمنی انتخاب کیوں کرایا جارہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت یہ سوال بھی اٹھایاانتخاب میں کامیاب امیدوار کس وجہ سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔کیا ملک کے شہریوں کے ٹیکس کے روپے کا ضیاع نہیں ہے ۔ان سخت سوالات کے باوجود عدالت نے ضمنی انتخاب پر روک لگانے سے انکار کردیا۔اس سے ترنمول کانگریس نے راحت کی سانس لی ہے ۔
عدالت نے پوچھا کہ صرف ایک نشست کے لیے آئین کے بحرن کا حوالہ کیوں دیا جارہا ہے۔چیف سیکرٹری نے آئینی بحران کے بارے میں کیسے لکھا؟ الیکشن کمیشن چیف سیکرٹری کے خط کی بنیاد پر کیسے کارروائی کر سکتی ہے؟ قائم مقام چیف جسٹس نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آئین اور قانون صرف ایک سیٹ کے لیے ہے۔ایک شخص الیکشن جیت کر مستعفی ہو جائے گا ، اور دوسرا اس کی جگہ پر کھڑا ہو جائے گا؟
ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ ضمنی الیکشن کرانے میں کتنا خرچ آتا ہے؟ کمیشن کے وکیل اس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس وقت مدعی کے وکلاء نے کہا کہ ضمنی انتخابات کرانے پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اس تناظر میں ، ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ عوام کے ٹیکس کے روپے ضمنی انتخاب پر کیوں خرچ ہورہے ہیں ؟
خیال رہے کہ چیف سیکریٹری نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کہا تھا کہ مغربی بنگال میں کورونا کی صورت حال کنٹرول میں ہے۔چوں کہ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی اس وقت اسمبلی کی رکن نہیں ہے۔6مہینے میں رکنیت حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے اگر بنگال میں بھوانی پور حلقہ جہاں سے ممتا بنرجی امیدوار ہوں گی وہاں انتخاب نہیں کرایا گیا تو آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد ہی الیکشن کمیشن نے بھوانی پور اور مرشدآباد کی دوسیٹوں پر 30ستمبر کو انتخاب کرانے کا اعلان کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کے خط کا حوالہ دیا تھا۔کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔