بھارت بھوشن ۶۰؍ کی دہائی کا فلم ساز، ہدایت کار و اداکار بھارت بھوشن۔ سلام بن عثمان
ان کی بیوی زمیندار رائے بہادر بدھا پرکاش کی بیٹی سرلا تھی
بھارت بھوشن 14 جون 1920 کو شہر میرٹھ، اتر پردیش میں ایک بنیا خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد رائے بہادر موتی لال بھلا، میرٹھ کے سرکاری وکیل تھے۔ ان کا ایک بڑا بھائی تھا۔ جب وہ دو سال کا تھا تو والدہ کا انتقال ہوگیا۔ بھائی اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے دادا کے پاس رہنے کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ انہوں نے دھرم سماج کالج علی گڑھ سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی جو بعد میں فلم پروڈیوسر رمیش چندر بھلا کے نام سے بالی ووڈ میں جانے جاتے تھے۔ وہ لکھنؤ میں آئیڈیل اسٹوڈیو کے مالک تھے۔ بھارت بھوشن تعلیم کے بعد بھارت بھوشن نے والد کی خواہش کے خلاف فلموں میں کام کرنا شروع کیا۔ بھارت بھوشن سنیما سے منسلک ہونے کے لیے پہلے کلکتہ گئے اور بعد میں بمبئی مقیم ہوئے۔
ان کی شادی میرٹھ کے ایک ممتاز گھرانے میں ہوئی۔ ان کی بیوی زمیندار رائے بہادر بدھا پرکاش کی بیٹی سرلا تھی۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ انورادھا اور اپراجیتا۔ بھارت بھوشن کی اہلیہ سرلا 1960 کی دہائی کے اوائل میں فلم "برسات کی رات” میں دونوں نے ساتھ کام کیا تھا۔ فلم کی ریلیز کے فوراً بعد اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت لیبر کی پیچیدگیوں کی وجہ سے چل بسیں۔ 1967 میں انہوں نے اداکارہ رتنا سے شادی کی یہ بھی فلم "برسات کی رات” میں ان کی ساتھی اداکارہ تھیں۔ رتنا ایک نامور اداکارہ تھیں۔ انھوں نے کئی فلموں میں ہیروئن کی بہن یا سہیلی کا کردار ادا کیا۔ ان کی قابل ذکر ٹی وی نمائشوں میں چار نوجوان لڑکیوں کی ماں کے طور پر سیریل "ترشنا” میں نظر آئیں۔
ایک انٹرویو میں ان کی بیٹی اپراجیتا نے کہا تھا کہ "ان کے شوہر کے اچانک انتقال کے بعد انہوں نے اداکاری کا رخ کیا.” اپراجیتا نے 50 سے زیادہ فلمیں اور ٹی وی سیریل میں کام کیا۔ انہوں نے رامانند ساگر کی مشہور سیریل "رامائن” میں مندودری کا کردار ادا کیا۔
بھارت بھوشن کا بمبئی کے مضافاتی علاقے باندرہ میں ایک بنگلہ تھا۔ بھارت بھوشن نے اپنے عروج کے وقت جوہو پر ایک بنگلہ خریدا تھا۔ یہ مشہور "آشیرواد بنگلہ”۔ جسے انہوں نے اپنی تنگدستی کے وقت راجندر کمار کو بیچ دیا۔ بعد میں آشیرواد بنگلہ کو راجندر کمار نے راجیش کھنہ کو بیچ دیا۔ یہ بنگلہ اس طرح 3 مشہور فلمی ستاروں کے نام منسوب تھا۔ جن میں سے بھارت بھوشن نے اپنے تنگدستی کے حالات کی وجہ سے انہیں بنگلہ فروخت کرنا پڑا تھا۔ بھارت بھوشن ایک شوقین پڑھنے والے ایسے اداکار تھے۔ ان کے یہاں کتابوں کے عمدہ ذخیرہ موجود تھا۔ جسے بر وقت وہ تاریخی کتابیں ان کے کاروں اور بنگلوں میں اکثر نظر آتی تھیں۔ 50 اور 60 کا ایک ایسا سنہرہ وقت تھا۔ اس وقت کئی اسٹاروں کی طوطی بولتی تھی۔ جن میں دلیپ کمار، راجکپور، اشوک کمار اور بھی کئی دیگر۔ ان مشہور ادکاروں کے درمیان بھارت بھوشن نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی اور چاکلیٹ چہرہ اور افسانوی اداکار سے مشہور ہوئے۔ اسی درمیان انہوں نے اپنے بھائی کے کہنے پر فلم بنانے کو تیار ہو گئے۔
انھیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا جس کی وجہ سے ان کے پاس کہانیوں کی کمی نہیں تھیں۔ اس وقت ان کی صرف چند فلمیں ہی کامیاب ہوئیں اور بدقسمتی سے باقی فلاپ ہوئیں۔ ان کی فلمیں نہ چلنے کی وجہ سے بھارت بھوشن بہت مقروض ہوگئے۔ اور قرض حد سے زیادہ بڑھ گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ انھیں اپنا بنگلہ، کاریں، بیچنا پڑیں۔ اس کے بعد ان کی پاس جو قیمتی کتابیں تھیں انھیں بھی ردی کے دام بیچنا پڑا۔ انہیں فلموں میں کام ملنا بالکل بند ہو گیا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا کہ وہ کار کے بغیر نہیں چلتے تھے۔ بعد میں بی ای ایس ٹی بس سے سفر کیا کرتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کی بس جب جوہو سے آشیرواد بنگلہ کے قریب سے گذرتی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ فلموں میں کام کا سلسلہ ایسا ہوگیا تھا کہ جب وہ کسی ہدایت کار یا فلم ساز کے پاس کام کی بات کرتے تو کئی مرتبہ انھیں یہ سننے ملا کہ جونئیر آرٹسٹ کردار کا کام ہے۔ بھارت بھوشن کو ہاں کہنا پڑتا۔ بھارت بھوشن 27 جنوری 1992 کو اپنے مالی بحران سے پریشان ہوکر بیماری کے سبب انتقال کر گئے۔
1941 میں کیدار شرما کی ہٹ فلم "چترلیکھا” کے ساتھ اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے ہندی فلموں میں بیجو باورا (1952) سے اپنی شناخت بنانے کے لیے ایک دہائی سے زیادہ جدوجہد کی۔ انھیں محمد رفیع، مینا کماری اور نوشاد علی کے ساتھ فوری طور پر اسٹارڈم اور افسانوی درجہ کے اداکار کی شہرت ملی۔ بھارت بھوشن ایک بہت ہی باصلاحیت اداکار تھے۔ وہ بالی ووڈ کی فلموں میں 1950 اور 1960 کی دہائی کا ایک ممتاز ستارہ تھے۔ لیکن انہوں نے اکثر فلموں میں المناک موسیقاروں کے کردار ادا کیے تھے۔
جن فلموں میں انہوں نے مرکزی اداکار کے طور پر کام کیا ان میں مشہور فلم "بسنت بہار” شامل ہیں۔ مدھوبالا کے ساتھ ان کی جوڑی بہت مقبول ثابت ہوئی کیونکہ انہوں نے فلم "گیٹ وے آف انڈیا” (1957)، پھگن (1958) اور برسات کی رات (1960) جیسی کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ بیجو باورا میں بھارت بھوشن (1952) ہندی فلموں میں تاریخی اور افسانوی کرداروں کو انہوں نے بہترین انداز میں پیش کیا۔ ایک انٹرویو میں معاصر اداکار اور پروڈیوسر چندر شیکھر نے بھارت بھوشن کے لیے کہا۔ انہوں نے فلم "برسات کی رات” نئی "عمر کی نئی فصل”، "بسنت بہار”، "دوج کا چاند” وغیرہ کے اسکرپٹ اور کہانیاں لکھیں۔ وہ "دوج کا چاند” کے پروڈیوسر تھے۔ ان کے بھائی آر چندرا نے فلم بے بس، مینار، اور بسنت بہار جیسی کئی فلمیں بنائیں۔
انہوں نے 1954 میں فلم "شری چیتنیا مہا پربھو” کے لیے دوسرے فلم فیئر بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرنے والے اداکار تھے۔ اس دور کے بڑے گلوکاروں جیسے محمد رفیع، منا ڈے، طلعت اور مکیش کے زیادہ تر عظیم گانے ان پر فلمائے گئے ۔ وہ ہندی فلموں کے پہلے چاکلیٹ چہرے والے اسٹار تھے۔ بھارت بھوشن ان چند اداکاروں میں سے ایک تھے جنہیں موسیقی کی اچھی سمجھ تھی۔ اس لیے 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ان کے ساتھ زیادہ تر موسیقی پر مبنی فلمیں مرکزی کرداروں میں بنائی گئیں۔
انہوں نے 1990 کی دہائی تک بالی ووڈ میں اداکاری کی۔ انہیں آج بھی ہندوستانیوں کی طرف سے ان عظیم فلموں اور عظیم گانوں کے لیے پیار اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہم عصروں کے ذاتی المیوں اور سخت مسابقت کے باوجود اپنی بہترین اداکاری سے فلمی شائقین کو لطف اندوز کیا۔ انہیں ہندی سنیما کے عظیم ترین ستاروں اور لیجنڈز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے




