’بھیڑیا‘وی ایف ایکس اور گرافکس کا کمال ہے
بھیڑیا تھریلر کامیڈی فلم ہے جس میں مرکزی کرداروں میں ورن دھون، کریتی سنن، سورب شکلا، ابھیشیک بینرجی، دیپک ڈوبریال، وغیرہ ہیں
فلمی تجزیہ : انصاری حنان
بھیڑیا جو کہ سال کی سب سے بڑی فلموں میں سے ایک فلم ہے جسکا شائقین بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے منظر عام پر آچکی ہے، بھیڑیا تھریلر کامیڈی فلم ہے جس میں مرکزی کرداروں میں ورن دھون، کریتی سنن، سورب شکلا، ابھیشیک بینرجی، دیپک ڈوبریال، وغیرہ ہیں، فلم کے ڈائریکٹر امر کؤشک ہے اور مصنف نتن بھٹ اور موسیقی امیتابھ بھٹا چاریہ کی تیار کردہ ہے جبکہ فلم کو پروڈیوس کیا ہے دنیش وجین اور پوجا وجین نے وہیں پروڈکشن جیو اسٹوڈیو اور میڈوک فلمس کی جانب سے ہے،فلم اروناچل پردیش میں فلمائی گئی ہے اور کہانی وہاں کے جنگلات کی وکالت کرتی نظر آتی ہے، فلم میں ورن دھون ایک ڈھیکیدار کے لئے کام کرتے ہیں اور وہ اروناچل پردیش کے جنگل کے درمیان سے ایک قومی شاہراہ بنانے کا منسوبہ لیکر اروناچل پردیش پہنچتے ہیں جہاں وہ جنگل کے قبائیلی لوگوں کو انکی جگہ قومی شاہرا بانے کی خاطر دینے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر قبائیلی تیار نہیں ہوتے وہیں دوسری طرف شہر سے جنگلوں میں خیمہ زن اِن ڈھیکیداروں کو جنگلی جانوروں کے حملہ کا ڈر بھی لگا رہتا ہے اسی دوران ورندھون پر بھیڈیے کا حملہ ہو جاتا ہے جس سے وہ کافی زخمی ہو جاتے ہیں علاج کی غرض سے انہیں انکے ساتھی جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لےکے جاتے ہیں جہاں کریتی سنن کی فلم میں بطورِ ڈاکٹر انٹری ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ انسانوں کے ڈاکٹر کے پاس اس لئے نہیں جاتے کیوں کہ قبائیل کے مطابق جانور کا انسان پر اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ انسان بھی جانور بنجاتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ جو لوگ جنگل کو کاٹتے ہیں انکو بھیڈیا کاٹ لیتا ہے، یہاں ورن کے جسم میں بھیڈیے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوچکی ہوتی ہے اسی لئے اس بات کو ورن کے دوست چھپاتے ہیں، جب بھی چاندنی رات ہوتی انسانی جسم بھیڈئے کے جسم میں تبدیل ہو نے لگتا اور انسانوں کے شکار پر نکل پڑھتا ہے کچھ ہی دنوں میں جب یہ بات تھوڑی بہت عام ہونے لگتی ہے تب کسی وید کے ذریعہ یہ ہدایت ملتی ہے کہ ورن کو بھیڑئے نے جہاں کاٹا ہے وہیں دوبارا کاٹنے پر یہ بھیڑئے سے مکمل انسان بن سکتے ہیں، ورن اس بات پر راضی ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ آدھا بھیڑیا اور آدھے انسانوں والی زندگی سے پریشان ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ جنگلوں کی طرف نکل پڑھتے ہیں۔
خود کو بھیڑئیے سے کٹوانے کے لئے اور کہانی میں تب ٹوسٹ آتا ہے کہ بھیڑیا وہاں آتا تو ہے لیکن ورن کو کاٹ نہیں پاتا کیوں کہ اسی وقت محکمئہ جنگلات کی جانب سے اس بھیڈئیے پر گولی چلا دی جاتی ہے اور وہ وہا سے اپنی جان بچا کر بھاگ کر ایک غار میں چھپ جاتا ہے ورن دھون جب اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس غار میں پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس بھیڑئیے نے اسے کاٹا تھا جس پر یہ سب کچھ ہوا آخر وہ تو کریتی سنن ہے پھر کریتی اس کے پیچھے کا سارا راز سناتی ہے جس کا مقصد جنگلات کی حفاظت کرنا ہوتا ہے وہ کہتی ہے کہ میں یہاں سالوں سے جنگل کی حفاظت کر رہیں ہو شہر سے لوگ آتے ہیں جو کبھی یہاں مال، کبھی کار خانے تو کبھی قومی شاہرا بنانے کا منصوبہ لاتے ہیں لیکن سب کا مقصدجنگلوں کو کاٹ کر ہی پورا ہوتا ہے جو میں نہیں ہونے دوں گی کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو جنگلی جانور کہاں جائیں گے اور ان جنگلوں سے جو تازہ اکسیجن تم شہر والوں کو ملتا ہے وہ کہاں سے حاصل ہوگا ؟
وہ کہتی ہیں کہ ہم جتنا قدرتی چیزوں اور ماحولیات کو تبدیل کرنے یا اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے کوشش کریں گے یہ اتنا ہی نقصان دہ ہوگا دنیا کے لئے یہ سب سن کر ورن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور پھر اس طرح شکاریوں سے دونوں ایک دوسرے کی جان بچاتے ہیں لیکن آخر میں کریتی اپنی ذمہ داریوں سے تھک کر بھیڑئیے کی شکل میں پہاڑ سے کود کر اپنی جان دیدیتی ہیں تاکہ آئندہ جنگلوں کی حفاظت کی ذمہ داری ورن سمبھال سکیں۔
فلم کی کہانی بہت عمدہ اور لوکیشن آپکے دل کو ماحولیات کے قریب لے جاتا ہے اور حسین نظارے کرواتا ہے، وہیں فلم کے اکثر مناظر خاص طور پر بھیڈیا VFX اور گرافکس کا کمال ہے جسے نہایت ہی عمدہ طریقہ اور بہت ہی صفائی کے ساتھ بنایا گیا ہے. میں نے فلم میں ایک بات بڑی غور سے نوٹ کی ہے کہ پوری فلم میں خاتون کرداروں میں کریتی سینن اکیلی ہیں جنکو ڈائلاگ دیا گیا ہے، انکے علاوہ ویسے خاتون کردار نہ کے برابر ہیں اور اگر ہیں بھی تو کسی کو کوئی ڈائلاگ نہیں ملا ہے۔



