بھوپال،18فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لواطت اور ہم جنس پرستی کی قباحت پہلے ایک ہی جنس یعنی بالغ مردوں موجود تھی، لیکن مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں شادی شدہ خواتین کا ہم جنس پرستانہ شادی کا معاملہ سامنے آنے سے ہم جنس پرستانہ تاریخ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔
یہ دونوں ہم جنس خواتین میاں -بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہ رہی تھیں، جب کہ ان خواتین کے بچے بھی ہیں۔ ایک خاتون نیپالی ہے، جو شملہ میں رہتی ہے، جبکہ دوسری خاتون بھوپال کی ہے۔ جب یہ معاملہ نیپالی تنظیم کے پاس پہنچا تو انہوں نے بھوپال پولیس سے مدد طلب کی۔
اس کے بعد بھوپال پولس نے دونوں کی کاؤنسلنگ کر کے معاملہ کو سلجھایا۔غور طلب ہے کہ یہ ہم جنس پرستانہ عشق کی کہانی شملہ سے شروع ہوئی تھی۔
شملہ کی خاتون نے بھوپال میں رہنے والی ایک خاتون سے فیس بک کے ذریعے دوستی کی۔ یہ دوستی اتنی بڑھی کہ دونوں نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے بعد شملہ کی خاتون بھوپال میں رہنے والی خاتون سے ملنے آئی، اس کے بعد یہ دوستی عشق میں بدلی اور پھر دونوں نے ہم جنس پرستانہ شادی رچاکر بدترین تاریخ رقم کرڈالی۔
بتایا جا رہا ہے کہ دونوں کی شادی غازی آباد میں ہوئی تھی۔معلومات کے مطابق نیپالی خاتون کے دو بچے ہیں جب کہ بھوپال میں رہنے والی خاتون کے ہاں ایک بچہ ہے۔
بھوپال میں رہنے والی خاتون اپنے شوہر سے الگ رہ رہی تھی، جب کہ شملہ میں رہنے والی خاتون اپنے شوہر کو چھوڑ چکی تھی۔ خاتون کے شوہر نے شملہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ہے۔
یہاں جب نیپالی تنظیم کو اس بات کا علم ہوا تو ہنگامہ برپا ہوگیا۔ تنظیم نے اس معاملہ میں پولیس سے رابطہ کیا۔ اس نے ساری بات خاتون پولیس حکام کو بتایا، جو خواتین کی کرائم برانچ کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔
معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کی۔دونوں خواتین کی کاؤنسلنگ گووند پورہ پولیس اسٹیشن میں واقع انرجی ڈیسک کے ذریعہ کی گئی تھی۔ کونسلنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دونوں خواتین بغیر کسی دباؤ کے اور اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں۔
دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے ڈیڑھ ماہ ہو گیا تھا۔ خواتین کرائم ڈی سی پی ونیت کپور نے بتایا کہ دونوں خواتین بالغ ہیں اور ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔کونسلنگ کے بعد شملہ کی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئی۔



