’ بھوپال کا نام بدلا جائے گا‘ کابینہ وزیر وشواس سارنگ کے بیان پر مسلم تنظیموں کا شدید رد عمل
بھوپال ، 5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک بھر میں مسلم تشخص سے معروف شہروں کے نام بدلنے کی سیاست اپنے عروج پر ہے ۔ایک شہر اور جگہ کا نام بدلنے کا معاملہ سرد بھی نہیں پڑتا ہے کہ دوسرے شہر اور مقامات کا نام بدلنے کی سیاست شروع کردی جاتی ہے۔کبھی مغل سرائے ،الٰہ آباد کا نام بدلا گیا ، حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام بدلا، اب بھوپال کو ’’بھوجپال‘‘ بنانے کی تیاری ہے۔
یہ الگ بات ان سیاست دانوں کو ’’وکاس ‘‘ سے کوئی سروکار نہیں ، جس کے نام پر یہ اقتدار پر براجمان ہوئے ہیں ۔ شیوراج کابینہ کے سینئر وزیر وشواس سارنگ نے بھوپال کو مبینہ ’غلامی کی علامت‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس شہر کا نام بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وہیں کانگریس سمیت مسلم تنظیموں نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اسے نفرت کی سیاست قرار دیا ہے۔مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی تاریخ ہزارسال سے زیادہ قدیم ہے۔ یہاں پرمار ونش، گونڈ حکمراں اور مسلم نوابوں کی حکومت رہی ہے۔ اس شہر پر قریب ڈھائی سو سال تک تیرہ مسلم نوابوں نے حکومت کی ،لیکن اس شہرکا نام کبھی نہیں بدلا گیا، مگر آزادی کے ۷۵؍ سال بعد اب بھوپال کے نام کو غلامی کی علامت سے تعبیر کرکے اس کا نام بدل کر بھوپال سے بھوجپال کرنے کا مطالبہ زور و شور سے کیا جانے لگا ہے۔
بائیس نومبر کو بھوپال کے حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملا پتی اسٹیشن رکھا گیا اس کے بعد ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کیا گیا اور اب بھوپال کے نام کو بدلنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
کابینہ وزیر وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ غلامی کی ہر نشانی کو ہم بدلیں گے، وہ شہر اور گاؤں کے نام جو ہمیں غلامی کی یاد دلاتے ہیں ، وہ مدھیہ پردیش میں نہیں رہیں گے، اسی عہد کے ساتھ ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کیا گیا ہے۔
ہوشنگ آباد کو اب نرمدا پورم کہا جائے گا۔ کانگریس کے لیڈر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا بھگوا ایجنڈا ہے تو وہ اگر اس کو بھگوا ایجنڈا مانتے ہیں ،ہمیں کوئی دقت نہیں ہے۔ اس تناظر میں ممتاز شاعر منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ بقول راحت اندوری یہ لوگ جسم سے نہیں ذہن سے اپاہج ہیں، یہ لوگ بھوپال کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔
بھوپال کے مسلم حکمرانوں نے حکومت تو کی ، لیکن انہوں نے کبھی اس شہر کا نام بدلنے کا خیال نہیں کیا۔ آپ شہر کا نام بدل دیجئے اس سے شہر کی تاریخ نہیں بدلے گی لیکن ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنی تاریخ اور تہذیب اور شہر کے نام کی حفاظت کرنے کا ہنر آتا ہے۔
مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری اقبال مسعود کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ بھوپال کے نام کو مسلم حکمرانوں سے جوڑ کر کیوں دیکھا جا رہا ہے۔ جب کہ اس شہر کی تاریخ گونڈ حکمراں اور گونڈ تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔
یہاں پر گونڈ ونش کا بھوپال شاہ نام کا ایک حکمراں ہوا ہے ، جس نے اسے آباد کیا تھا اور اسی کے نام سے اس شہر کا نام بھوپال ہے۔ اس نے ایک راگ بھی بنایا تھا جس کے نام سے راگ بھوپالی آج بھی مشہور ہے۔
وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ در اصل یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلتوں، آدیواسیوں اور گونڈوں کے بھی دشمن ہیں ، جس شہر کی تہذیب کا تعلق آدیواسی گونڈ حکمراں بھوپال شاہ سے وابستہ ہے، اسے وہ بدل کر پرمار ونش کے حکمراں راجہ بھوج کے نام سے بھوجپال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اوچھی سیاست ہے ۔



