قومی خبریں

بیدر: محمود گاواں مدرسے میں گھس کر شرانگیزی کا معاملہ 4 ہندو ملزمین گرفتار، مسلمانوں نے واپس لیا احتجاج

بیدر، 7اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک پولیس نے جمعہ کے روز بیدر شہر کے تاریخی محمود گاواں مدرسہ میں ہندو کارکنوں کے داخل ہونے اور 5 اکتوبر کو پوجا کرنے کے واقعہ کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مسلم تنظیموں نے قبل ازیں نماز جمعہ کے بعد پولیس کی بے ضابطگیوں کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کی کال دی تھی۔ گرفتاری کے بعد انہوں نے احتجاج واپس لے لیا۔ ایف آئی آر میں نامزد 9 ملزمان میں منا، نریش، یال لنگا اور پرکاش کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم کرناٹک پولس بیدر ضلع میں ہائی الرٹ پر ہے اور محمود گاں مدرسہ اور مسجد کے ارد گرد سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق بیدر میں دسہرہ کے جلوس میں شریک ہندو کارکنوں کا ایک گروپ بدھ کی رات تاریخی محمود گاواں مدرسہ کے احاطے میں داخل ہوکر شر انگیزی انجام دی تھی۔اس مدرسہ کو ایک تاریخی عمارت تصور کیا جاتا ہے۔ مدرسہ کی دیکھ بھال آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کرتی ہے۔ یہ بہمنی سلطنت میں 1460 میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ ہندوستان کی اہم یادگاروں میں سے ایک ہے۔اس دن لی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں یادگار کی سیڑھیوں پرہندؤوں کا ایک بڑا گروپ کھڑا دکھایا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں نو مقدمات درج کر لیے ہیں، دیگر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button