
بین ریاستی خبریں
طالب علم کی خودکشی کیس میں بڑا انکشاف: 17ویں منزل سے چھلانگ سے ایک گھنٹہ قبل دوستوں کے درمیان رو یا تھا
فریدآباد ، 2مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) گزشتہ 24 فروری کی رات خودکشی کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے ڈسکوری سوسائٹی گریٹر فرید آباد کا رہنے والا گورو (نام تبدیل ہوا) سوسائٹی کے دوستوں کے درمیان بیٹھ کر بہت رویاتھا، اس نے دوستوں کو بتایا کہ اسے اسکول میں تنگ کیا جاتا ہے ، اسے کوئی نہیں سمجھتا کہ وہ طالب علم ہے ۔
گورو کے سوسائٹی میں 2-3 دوست تھے جن کے ساتھ وہ اکثر اپنا درد بانٹا کرتا تھا۔ وہ 24 فروری کو واقعہ کے دن بھی ان ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ گورو ڈی پی ایس کا طالب علم تھا، اس کی والدہ بھی اسی اسکول میں فائن آرٹس کی ٹیچر ہیں۔
الزام ہے کہ اس نے کچھ سوالات کو سمجھنے کے لیے اپنی ہیڈ مسٹریس سے مدد مانگی تھی۔ الزام ہے کہ ہیڈ مسٹریس نے یہ کہہ کر ڈانٹ پلائی تھی کہ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے گورو اتنا پریشان ہوا کہ اس نے 24 فروری کی رات سوسائٹی کی 17ویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔
اس معاملہ میں بی پی ٹی پی تھانے نے ہیڈ مسٹریس اور اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس معاملے میں ممتا گپتا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔دوست نے بتایا کہ گورو ایک گھنٹہ پہلے بات کرنے کے بعد اس کے پاس سے چلا گیا تھا۔
جب وہ روتے ہوئے اپنا درد بتا رہا تھا تو اسے سمجھایا گیا۔ اکثر وہ ان سے ہر بات شیئر کرتا تھا۔ اس دن بھی وہ اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس وقت ایسا کچھ نہیں لگتا تھا کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھائے گا۔
دوست نے بتایا کہ گورو کے جانے کے بعد بھی وہ دوسرے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جب اس نے گورو کو 17ویں منزل سے گرتے دیکھا تو اس کی سانس رک گئی۔بی پی ٹی پی اسٹیشن انچارج ارجن نے بتایا کہ اسکول کی تعلیمی سربراہ ممتا گپتا کو گرفتار کرنے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن اس دوران انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔
وہ صرف خود کو بے قصور قرار دیتی رہی۔ فی الحال اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔گورو اتنا سلجھا ہوا تھا کہ سوسائٹی کے لوگوں سے لے کر سیکورٹی گارڈ تک اس کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں ۔



