کانگریس کو بڑا جھٹکا: اندور کے امیدوار اکشے بام نے پرچہ نامزدگی واپس لے لیا
بی جے پی امیدوار کی تاریخی بلامقابلہ جیت ہوئی
نئی دہلی ،29اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے ووٹنگ سے چند دن پہلے، سورت سے کانگریس امیدوار کی نامزدگی کی منسوخی سے بی جے پی امیدوار کی تاریخی بلامقابلہ جیت ہوئی۔ اب مدھیہ پردیش کے اندور میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ یہاں کانگریس کے امیدوار اکشے کانتی بام نے خود اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا اور اب بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں، جو کانگریس کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اندور میں نامزدگی کی تاریخ اب گزر چکی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اندور سے کانگریس امیدوار اپنی نامزدگی واپس لینے کے لیے کابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ اور بی جے پی ایم ایل اے رمیش منڈولا کے ساتھ اندور کلکٹریٹ آفس گئے تھے۔
نامزدگی واپس لینے کے بعد وہ بی جے پی کے دفتر پہنچے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت حاصل کی۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے اندور سے موجودہ ایم پی شنکر لالوانی کو ٹکٹ دیا ہے۔ کانگریس کو اس بڑے جھٹکے کی اطلاع آج مدھیہ پردیش کے سینئر لیڈر اور کابینہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی ہے۔
اکشے کو بی جے پی میں لانے کا منصوبہ کیسے بنایا گیا؟معلومات کے مطابق اکشے کانتی بم کو بی جے پی میں لانے کا منصوبہ ایک ہوٹل میں بنایا گیا تھا۔ امیدوار اکشے نے نامزدگی واپس لینے پر ناخوشگوار واقعہ کا اندیشہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ کانگریسی ہنگامہ کریں گے۔ اس کی وجہ سے مینڈولا وزیر وجے ورگیہ کے ساتھ داخل ہوئے۔ اسی لیے دونوں لیڈران اپنے کاغذات نامزدگی منسوخ کروانے کلکٹریٹ آفس گئے تھے۔
اکشے کے علاوہ اس سیٹ پر فی الحال 21 امیدوار ہیں، اور بی جے پی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ سورت کی طرح اندور میں بھی پارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے ڈپٹی سی ایم جگ دیش دیورا نے کہا کہ اکشے کانتی بام کا پارٹی میں خیرمقدم ہے۔ لوگ کانگریس کے کام کرنے کے انداز سے ناراض ہیں، جو بھی پارٹی میں آتا ہے اس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔



