بہار میں 7؍ دنوں میں 3؍ زیر تعمیر منہدم ہوگئے،سرکاری کام کاج پر سوالیہ نشان
اس حادثے میں بھی لوگ پل کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں-
پٹنہ، 24جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)آر جے ڈی سپریمو لالو یادو نے بہار میں 7 دنوں کے اندر 3 پلوں کے گرنے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ڈبل انجن والی حکومت ہے مگر اس کے باوجود یہاں پر پلوں کا گرنا جاری ہے۔ ایک ہفتے میں 3 پلوں نے ’’جل سمادھی‘‘ لے لی۔ نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی جنگل راج ہے؟آپ کو بتاتے چلیں کہ 18 جون کو ارریہ میں دریائے بکرا پر بننے والا پل افتتاح سے قبل ہی ندی کے بہاؤمیں ڈوب گیا تھا۔ 5 سال میں ایسا حادثہ دوسری بار ہوا ہے۔ نتیش ابھی بھی سو رہے ہیں انہوں نے پہلے حادثے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔
دریائے بکرا نے اپنا رخ بدلا اور کمزور ستون پانی کے بہاؤ کو برداشت نہیں کر پائے اور پانی میں غرقاب ہو گئے22 جون کو سیوان میں گنڈک نہر پر بنا پرانا پل بھی ڈبل انجن کی حکومت کو برداشت نہ کرسکا اور جل سمادھی لے لی۔ آہستہ آہستہ پل کے دونوں سرے نہر میں ڈوب گئے۔ اس پل کے گرنے سے گاؤں والے کافی ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت رہتے مرمت کرائی جاتی تو پل کو کرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔23 جون کو موتیہاری میں زیر تعمیر پل بھی دوران گر گیا۔ خوش قسمتی تھی کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس حادثے میں بھی لوگ پل کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ لالو یادو نے تینوں پلوں کے گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے حکومت پر بھی حملہ کیا ہے۔اس سے پہلے تیجسوی یادو نے بھی سوشل میڈیا پر تینوں واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پل گر گئے، بدعنوانی کھل گئی۔ تیجسوی نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ڈبل انجن والی سرکار اب اپنی صفائی میں کون سی دلیل پیش کرے گی ، یہ قابلِ دید ہوگا۔



