قومی خبریں

بہار ذات مردم شماری:معاملہ سپریم کورٹ میں، فی الحال کوئی مداخلت نہیں:عدالت

اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔

نئی دہلی، 3اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بہار میں ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار جاری کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ فی الحال ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ کیس کی سماعت 6 اکتوبر کو ہوگی۔ کیس کی سماعت اسی روز ہوگی۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ بہار حکومت نے پہلے کہا تھا کہ ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو عام نہ کیا جائے۔ بہار میں ذات پات کی مردم شماری کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعداب بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میں 9 جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا گیاتھا۔ واضح ہو کہ پیر کو بہار حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ اس کے بعد پی ایم مودی نے بھی اس پر سوال اٹھائے ہیں۔

مردم شماری کے مطابق بہار میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور انتہائی پسماندہ طبقات (ای بی سی) کی کل آبادی تقریباً 63 فیصد ہے۔بہار حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی کل 13 کروڑ آبادی میں پسماندہ طبقات کی تعداد 27.13 فیصد ہے۔ اسی طرح انتہائی پسماندہ طبقے کی کل آبادی 36.01 فیصد ہے۔ یعنی پسماندہ طبقات اور دیگر پسماندہ طبقات کی مشترکہ آبادی 63.14 فیصد ہے۔ صرف 15.52 فیصد لوگ جنرل زمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ درج فہرست ذات کے لوگ 19.65 فیصد ہیں اور درج فہرست قبائل کی آبادی 1.68 فیصد ہے۔ ریاست میں 3.6 فیصد برہمن، 3.45 فیصد راجپوت، 2.89 فیصد بھومیہار، 0.60 فیصد کائستھ، 14.26 فیصد یادو، 2.87 فیصد کرمی، 2.81 فیصد تیلی، 3.08 فیصد مسہر، 0.68 فیصد سونار ہیں۔ بہار کی کل آبادی کا 81.99 فیصد ہندو ہیں۔ صرف 17.7 فیصد مسلمان ہیں۔ عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد صرف 1 فیصد سے بھی کم ہے۔پیر کو گوالیار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ملک کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی یہ لوگ غریبوں کے جذبات سے کھیلتے رہے ہیں۔اب پھر وہی کچھ ہو رہا ہے۔ ان کا یہ بیان سروے رپورٹ کے اجراء کے بعد سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اعداد و شمار کے جاری ہونے کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد’ انڈیا‘ کے کئی بڑے حلقوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو جلد از جلد قومی سطح پر ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرانی چاہیے،جبکہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بہار حکومت کے اس قدم کو درست قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ذات پات کے اعدادوشمار جاننا ضروری ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق ان کی آبادی کے مطابق ملنے چاہئے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ لکھا کہ بہار کی ذات پات کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی 84 فیصد ہیں۔ مرکزی حکومت کے 90 سکریٹریوں میں سے صرف 3 او بی سی ہیں۔ وہ ہندوستان کے بجٹ کا صرف 5 فیصد ہینڈل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button