سرورققومی خبریں

"بہار SIR پر سپریم کورٹ کا سخت انتباہ: بے ضابطگی ہوئی تو پورا عمل منسوخ”

بہار SIR پر سپریم کورٹ کا دوٹوک اعلان، فیصلہ صرف بہار نہیں پورے ملک پر لاگو ہوگا

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بہار میں ووٹرس کی خصوصی گہری نظر ثانی (SIR) پر آج سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ایک انتہائی واضح اور سخت موقف اختیار کیا۔ عدالت نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر اس پورے عمل میں کہیں بھی بے ضابطگی یا آئینی اصولوں سے انحراف پایا گیا تو پورے عمل کو ہی کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 7 اکتوبر کی تاریخ طے کر دی ہے۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا:

’’اگر ایس آئی آر کے عمل میں آئینی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی، تو پھر یہ پورا عمل غیر قانونی اور ناقابل قبول ہو جائے گا۔‘‘

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ بہار سے متعلق ایس آئی آر پر جو بھی فیصلہ دیا جائے گا، وہ صرف بہار تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ہندوستان پر نافذ العمل ہوگا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’’ہم ٹکڑوں میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘‘

سماعت کے دوران عدالت نے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی۔ 8 ستمبر کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آدھار شہریت کا ثبوت نہیں ہے، لیکن اسے ووٹر لسٹ میں شناختی دستاویز کے طور پر پیش کرنے پر الیکشن کمیشن اس کی صداقت کی جانچ کر سکتا ہے۔ اب عدالت نے اس حکم پر نظرثانی کی عرضی پر بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت میں اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے عمل میں اپنے ہی قوانین کی پاسداری نہیں کر رہا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ قانونی ضرورت کے باوجود موصولہ اعتراضات کو عوامی طور پر اپ لوڈ نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ اگر واقعی ایسا کچھ سامنے آیا تو عدالت لازمی مداخلت کرے گی۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے 10 ستمبر کی میٹنگ میں عندیہ دیا تھا کہ آنے والے سال میں ملک بھر میں ووٹر لسٹ پر گہری نظر ثانی (All India SIR) کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے بہار ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کے انتخابی عمل پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی اہل شہری کا نام نہ چھوٹے اور کوئی نااہل شخص شامل نہ ہو، اس کے لیے آسان اور شفاف طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے کہ 2025 میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات متوقع ہیں جبکہ 2026 میں آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button