
میری بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی تھی,بل کلنٹن کا انکشاف
’میں ایسے رویے سے تنگ آ چکا ہوں‘، بل کلنٹن کی ٹرمپ پر مسلم مخالف بیانات کے لیے تنقید
واشنگٹن (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے رویے سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک خطاب کے دوران بتایا کہ ان کی بیٹی نے 15 برس کی عمر میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس سے انسانوں کے درمیان احترام اور برابری کا سبق ملتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کلنٹن نے جنوبی فلوریڈا کے ایک گرجا گھر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف منفی رویوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر بدنام کرنا درست نہیں، کیونکہ ہر معاشرے اور مذہبی گروہ میں مختلف طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔
سابق امریکی صدر نے یہ گفتگو ڈیموکریٹک پارٹی کے گورنر کے امیدوار ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم سے متعلق ایک اجتماع کے دوران کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیے جانے کا مقصد ایک دوسرے کو کمتر سمجھنا نہیں ہے۔
بل کلنٹن نے انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق، ان کی بیٹی نے انہیں بتایا تھا کہ قرآن انسانوں کی مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کا ذکر کرتا ہے، جس سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور احترام کرنے کا پیغام ملتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی مذہب یا معاشرے کے تمام افراد کو چند لوگوں کے اعمال کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مذہب میں برے عناصر موجود ہو سکتے ہیں اور کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں، اس لیے دوسروں کے بارے میں تعصب پر مبنی رائے قائم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
بل کلنٹن کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فرانس میں ہونے والے احتجاج اور بدامنی سے متعلق تبصرے پر بھی بحث جاری ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پیرس جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
میکرون نے فرانس کے حالات سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کو ناقابل قبول اور احمقانہ قرار دیا تھا۔ اس معاملے نے مذہب، امیگریشن اور سیاسی بیانات کے حوالے سے امریکہ اور یورپ میں جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے



