دلچسپ خبریںسرورق

پرندے راستے نہیں بھولتے

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرندے راستہ کیوں نہیں بھولتے؟

اگر آپ دنیا کے کسی ایسے خطے میں ہوں، جہاں شدید سردی پڑتی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ برف باری ہونے سے پہلے یہ نرم و نازک پرندے غائب ہو جاتے ہیں۔ دراصل یہ پرندے گرم ملکوں کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں۔

ان گرم ملکوں میں ان پرندوں کے کھانے کیلئے کیڑے مکوڑے موجود ہوتے ہیں اور موسم بھی اتنا شدید نہیں ہوتا۔ یہاں موسم سرما گزار کر یہ پرندے واپس اپنے وطن چلے جاتے ہیں۔ پرندوں کی زیادہ تر قسمیں ’’ڈار‘‘ کی صورت میں اڑتی ہیں۔ پرندوں کی الگ الگ قسموں کے اپنے اپنے مخصوص راستے ہیں۔

کچھ قسم کے پرندے صرف چند سو کلو میٹر تک جاتے ہیں جبکہ بعض اقسام کے پرندے طویل فاصلے طے کرتے ہیں۔ اکثر پرندے ایک سال کے بعد اپنے گھر کی طرف لوٹتے ہیں۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ہمیں کس طرح پتہ چلتا ہے کہ واپس آنے والا پرندہ وہی ہے، جو ایک برس قبل گیا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات کا یقین پرندوں پر نشان لگا کر کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے پرندوں کی ٹانگوں میں ایلومینیم کے چھوٹے چھوٹے چھلے باندھ دیئے جاتے ہیں اور ہر سال پرندوں کو پکڑ کر چھلوں والے پرندوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ پرندوں کے شوقین اور ماہرین ان چھلوں پر وہ نشانی دیکھ سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ کیا یہ وہی ہے جو ہجرت کر گیا تھا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرندے راستہ کیوں نہیں بھولتے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض پرندے ستاروں کی مدد سے راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ستاروں کے مخصوص مقامات رستے کی تلاش میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً قطبی ستارہ ہمیشہ شمال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ماہرین اب چھان بین کر رہے ہیں کہ پرندے ستاروں کی مدد کے علاوہ کوئی اور طریقہ بھی استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button