بین الاقوامی خبریں

امریکہ میں پیدائشی شہریت کی بحث پھر گرم، ٹرمپ کا بیان نیا تنازعہ لے آیا

“یہ حق غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، امیروں کے لیے نہیں” ٹرمپ

واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت (Birthright Citizenship) کا مسئلہ ایک بار پھر قومی و سیاسی مباحثے کے مرکز میں ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ چودہویں آئینی ترمیم کی شہریت سے متعلق شق دراصل خانہ جنگی کے بعد سابق غلاموں کے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، نہ کہ اُن افراد کے لیے جو محض امریکہ میں ولادت کے ذریعے شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کی معاشی اور انتظامی صلاحیت ایسے لاکھوں افراد کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں جو برتھ رائٹ سیٹیزن شپ کے تحت شہری قرار پاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس قانون کو آج جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، وہ اس کی اصل روح کے برخلاف ہے اور اسے از سرِ نو قانون سازی کے ذریعے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

“یہ حق غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، امیروں کے لیے نہیں” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چودہویں ترمیم اُس تاریخی دور کا حصہ ہے جب خانہ جنگی کے بعد امریکی حکومت نے سابق غلاموں کو مکمل قانونی حیثیت دینے کے لیے آئینی اقدامات کیے۔ ان کے مطابق اس شق کا مقصد کبھی بھی امیر غیر ملکی خاندانوں کو امریکہ میں بچے کی پیدائش کے ذریعے شہریت فراہم کرنا نہیں تھا۔

امریکی حکومت نے جنوری 2025ء میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے ذریعے ایسے بچوں کی شہریت تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو غیر قانونی طور پر موجود یا مختصر وزٹ پر آئے والدین سے امریکہ میں پیدا ہوں۔یہ پالیسی ماضی کے کیسز پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم اسے عدالتوں میں چیلنج کیا گیا جہاں مختلف وفاقی عدالتوں نے اس کے نفاذ پر عارضی پابندیاں لگا دیں۔

مسئلہ بالآخر امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ تک پہنچ چکا ہے، جس نے اس معاملے کو باضابطہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئندہ برس آنے والا فیصلہ نہ صرف امیگریشن قوانین بلکہ پیدائشی شہریت کی آئینی تشریح پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button