سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

خواص تازہ کریلے ✍️الحاج حکیم محمد عدنان حبان نوادرؔ رحیمی شفا خانہ بنگلور

مختلف نام: اردو کریلا، ہندی کریلا و چھوٹا کریلا (کریلی )، بنگالی کرلا، اوچھے ،کورولا ، چھوٹا کرلا، مراٹھی کارلیں، کار ،لگھوکارا، گجراتی کاریلاں، کریٹی ،کڑوابیلا، لاطینی میں ایم چرنیٹیا (M. Charnatia) اور انگریزی میں بٹر گورڈ ہ(Bitter Gourd)، ہائری مورڈیکا (Hairy Mordica)کہتے ہیں۔

مقام پیدائش: سارے ہندوستان اور پڑوسی ممالک کے علاوہ ملایا، افریقہ وغیرہ ممالک میں بھی پیدا ہوتا ہے۔

مقدار خوراک:پتوں کا رس 12سے 25گرام اور پھل کا رس بقدر مناسب استعمال کیا جاتا ہے۔

فوائد: جگر ہڈیوں، دانتوں اور دماغ کے لئے بہترین سبزی ہے۔ جگر و تلی کے بڑھ جانے و بدہضمی میں اس کا ساگ استعمال کراتے ہیں ، چیچک یا خسرہ سے بچنے کے لئے اس کے ساگ کا لگاتار استعمال کئی دنوں تک کرانا چاہئے۔ ذیابیطس کا یہ مجرب علاج ہے۔ریاحی اور زہریلے امراض میں بھی اس کا استعمال مفید ہے۔

ذیابیطس کا علاج:تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کریلا ذیابیطس کا بہترین و شافی علاج ہے اور اس کے استعمال کرنے سے "انسولین "کی ضرورت نہیں رہتی۔ ذیابیطس کے لئے کریلا کا رس استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس کی مقدار خوراک ایک گرام دن میں دو مرتبہ شروع کیا جاتا ہے جو رفتہ رفتہ بڑھا کر دو اونس تک لے جایا جاتا ہے۔

رس نکالنے کے لئے کریلے کے اوپر جو سبز چھلکا ہوتا ہے ،اسے چاقو سے تراش لیں اور نچوڑ کر رس نکال لیں۔اس کے علاوہ کریلے کو کوٹ کر بھی رس نکالا جاتا ہے یا بادام روغن نکالنے والی مشین میں دے کر بھی نکالا جا سکتا ہے۔یہ بہترین چیز ہے۔ اوّل تو کریلا ہر موسم میں مل جاتا ہے۔ اگر نہ مل سکے تو موسم میں کریلے کا رس نکال کر اس کے اندر فی پونڈ دس گرین پوٹاشیم میٹا بائی سلفیٹ ملا کر اسے محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ جس موسم میں کریلا نہ ملے تب کے لئے سنبھال رکھیں۔ رس صرف کچے کریلوں کا ہی استعمال کرنا چاہئے۔کریلے کو پکانے یا ابالنے سے وہ تاثیر نہیں رہتی۔

ماہیت :یہ ایک مشہور ترکاری ہے۔ جس کی بیل درمیان سے دھاگے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہے اور پتے پھٹے ہوئے کھردرے جن پر کانٹے ہوتے ہیں۔ پھول زرد رنگ کے جو نرم اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ پھل یعنی کریلا ایک انچ سے لے کر پانچ چھ انچ تک لمبے دونوں سروں پر پتلے اور درمیان سے موٹے ہوتے ہیں۔ کریلے کے اوپر چھوٹے چھوٹے پھوڑوں کی طرح ابھار ہوتے ہیں جب یہ کچا ہوتا ہے تو ان کا رنگ سبز ہوتا ہے لیکن پکنے پر یہ زرد اور سرخ ہو جاتا ہے۔ کریلے کے تخم کدو کی طرح اور کھردرے ہوتے ہیں لیکن دوسری قسم کے کریلے پتلے اور لمبے ہوتے ہیں جو کھانے میں بھی لذیذ ہوتے ہیں۔ اس کی ایک قسم جنگلی ہے۔

اس کے اوپر کریلے کی طرح ابھار تو ہوتے ہیں لیکن ان کی طرح بیج نہیں ہوتے۔ ان کا ذائقہ کریلے کی طرح ہوتا ہے اور اس کومرض زیابیطس میں مفید خیال کیا جاتا ہے۔ اس کو پنجاب میں چوہنگ کہتے ہیں۔

کریلا تمام ملک میں پایا جاتا ہے جبکہ مختلف سائز کے کریلے ہوتے ہیں۔اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے یہ بخار میں ٹمپریچر کو کم کرتا ہے۔اس کا اثر بخار میں کونین اور کرنجوہ کے برابر ہے۔ یہ یرقان کے لئے مفید ہے۔جانڈس کا بے نظیر علاج ہے۔جگر سے کرموں کو خارج کرتا ہے۔اس کے پتوں کا رس پیشاب آور ہے۔زیادہ مقدار میں قے آور ہے اور تھوڑی مقدار میں مخرج بلغم اور قبض کشا ہے۔ ہاضمہ کو بڑھاتا ہے۔ اس کے پتوں کا رس پرانا ملیریا، تاپ ،تلی اور ضعف جگر کے لئے مفید ہے۔ یہ ایک مشہور سبزی ہے۔اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے۔صفراء بلغم ، خون اور جریان کی شکایت دور کرتا ہے۔کرموں کو مارتا ہے۔

مقدار خوراک: بطور سبزی 25سے 60گرام۔

چونکہ کریلا عام ملتا ہے لہٰذا اہل طب حضرات اس کا تجربہ کریں۔یہ ارزاں ہے اور انسولین مہنگا علاج ہے۔انسولین کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔جبکہ کریلے کا رس خوردنی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔انسولین کی مقدار کم و بیش ہونے میں خطرہ ہے مگر کریلا کا رس بالکل بے ضرر دوا ہے۔

فساد خون: پھلوں کے ٹکڑوں کو سایہ میں خشک کر کے باریک سفوف بنا لیں۔ خوراک 3سے 6گرام تازہ پانی سے دیں۔فساد خون کے علاوہ پیشاب یا خون میں شوگر ہونے کے عارضہ کے لئے بھی ازحد مفید ہے۔شکر کے لئے تازہ پھلوں کا رس 10سے 20گرام پیتے رہنے سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔ مریض کو اس کا ساگ بھی روزانہ کھانا چاہئے اور روزانہ سیر بھی کرنی چاہئے۔

داد: کریلے کا رس لگاتار داد پر لیپ کرنے اور بطور دوا استعمال کرنے سے داد ہمیشہ کے لئے دور ہو جاتا ہے۔

گلے کی سوجن: سوکھے پھل کو سرکہ میں پیس کر نیم گرم گلے پر لیپ کرنے سے آرام آ جاتا ہے۔

خونی بواسیر: اس کے جوشاندہ کا شربت بنا کر 12گرام لگاتار پلاتے رہنے سے آرام آجاتا ہے۔اگر اس کے لئے کریلے کی بیل کا استعمال کیا جائے تو زیادہ فائدہ مند ہے۔

کان درد: اس کے تازہ پھل یا پتوں کا رس نیم گرم کان میں پانچ سے دس بوند ڈالنے سے کان درد کو آرام آ جاتا ہے۔

جوڑوں کا درد :پھل کے اوپر والے چھلکے کو اتار کر باقی حصہ کو آگ پر دس منٹ رکھ کر بھرتہ بنا لیں۔اب اس بھرتہ میں تھوڑی سی کھانڈ  ملا کر مریض کو نیم گرم کھلائیں۔اس طرح صبح و شام ایک بار 80گرام تک دیں اور دس دن تک کھلائیں۔ درد کی جگہ پر پھلوں کے رس کو گرم کر کے بار بار لیپ کرتے رہیں۔جوڑوں کے درد و گنٹھیا کے لئے مفید ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button