بین ریاستی خبریں

کیرالہ میں کم عمری کی شادی کی تلخ حقیقت  2019 میں 15-19 سال کی لڑکیوں کی ماں بننے کی شرح 4 فیصد سے زیادہ 

تریونت پورم ، 2اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیرالہ حکومت کی رپورٹ میں کڑوا سچ سامنے آیا ہے۔ 4.37 فیصد حاملہ خواتین 2019 کے دوران 15-19 سال کی عمر میں تھیں۔ 19 سال کی عمر تک ان میں سے کچھ نے دوسرے بچے یا تیسرے بچے کو جنم دیا۔ ریاستی حکومت کی رپورٹ خواتین کو بااختیار بنانے اور تعلیم کے باوجود بچوں کی شادیوں کے واقعات کا واضح اشارہ دکھاتی ہے۔ یہ رپورٹ محکمہ اقتصادیات اور شماریات نے ستمبر میں جاری کی تھی۔
رپورٹ کا حیران کن نتیجہ یہ ہے کہ 15 سے 19 سال کی 20995 خواتین کا ایک بڑا تناسب شہری علاقوں سے تھا، جبکہ 5747 خواتین جوماں بنیں وہ دیہی علاقوں سے تھیں۔ 20 سال سے کم عمر کی 316 خواتین نے دوسرے بچے کو جنم دیا، 59 خواتین نے تیسرے بچے کوجنم دیا اور 16 خواتین چوتھے بچے کی ماں بنیں۔ مذہب کی بنیاد پر بات کرتے ہوئے پتہ چلا کہ 11725 خواتین جو اس عمر کے گروپ میں مائیں بنیں وہ مسلمان تھیں جبکہ 3132 ہندو اور 367 عیسائی تھیں۔ رپورٹ میں دوسرا حیران کن عنصر تعلیم سے متعلق پایا گیا۔
انگریزی پورٹل انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ معلومات منظر عام پر آئی ہیں۔اس عمر کی زیادہ تر مائیں تعلیم یافتہ تھیں۔ 16139 خواتین نے دسویں جماعت پاس کی جبکہ صرف 57 غیر تعلیم یافتہ پائی گئیں اور 38 نے ابتدائی سطح کی تعلیم حاصل کی۔ 1463 خواتین کی تعلیم پرائمری سطح اور دسویں کلاس کے درمیان تھی۔
3298 ماؤں میں تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ 2019 میں زچگی کی موت 109 ریکارڈ کی گئی تاہم 19 سال سے کم عمر کے صرف دو کیس رپورٹ ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button