رسالت مآبؐ کی شان میں پھر منظم گستاخی بی جے پی نے اپنے ممبر اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کوپارٹی سے کیا معطل
پولیس کی ناکامی ،تکنیکی بنیاد پر پولیس ریمانڈ میں دینے سے عدالت کا انکار
نئی دہلی ،23اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بھاجپا کی مرکزی تادیبی کمیٹی نے پیغمبر انسانیتﷺ کی شان میںگستاخانہ تبصرے کے پادا ش میں تلنگانہ لیڈر ٹی راجہ سنگھ کومعطل کر دیا ہے۔اس پر ٹی راجہ کے مبینہ توہین آمیز تبصروں کے لیے مقدمہ درج کیا گیا تھا، اور بعد میں اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ٹی راجہ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے، 295 اور 505 کے تحت دبیر پورہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔پارٹی نے کہا کہ ان کے ریمارکس پارٹی لائن کے خلاف ہیں۔ ٹی راجہ کو جاری کردہ معطلی کے خط میں لکھا گیاکہ آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا ہے، جو کہ بی جے پی پارٹی کے ضابطہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تادیبی کمیٹی کے سربراہ اوم پاٹھک کے ذریعہ لکھے گئے معطلی کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ مزید انکوائری زیر التوا ہے، آپ کو پارٹی سے اور آپ کی ذمہ داریوںسے فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹس کی تاریخ سے 10 دن کے اندر وجہ بتائیں کہ آپ کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا جانا چاہیے۔ آپ کا تفصیلی جواب 2 ستمبر 2022 سے پہلے زیر دستخطی تک پہنچنا چاہیے۔خیال رہے کہ ٹی راجہ نے ایک 10 منٹ کی ویڈیو جاری کی جس میں پیغمبر اسلامؐ کے خلاف توہین آمیز بیانات کیے گئے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ آرائی کی گئی۔
قبل ازیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اہانت آمیز گستاخانہ بیانات کے سبب پارٹی سے بی جے پی کے دو قومی ترجما ن نوپور شرما اور دہلی کے رہنما نوین جندل کی معطلی ہوئی تھی۔ 19 اگست کو بی جے پی ایم ایل اے کو اس وقت نظر بند کر دیا گیا جب انہوں نے 20 اگست کو حیدرآباد میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے شو کی مخالفت کی تھی۔ ٹی راجہ سنگھ نے ایک ویڈیو بنا کر دعویٰ کیا کہ حیدرآباد پولیس نے اسٹینڈ اپ آرٹسٹ کو تحفظ فراہم کیا اور اس کے شو کو کامیاب بنانے میں مدد کی۔
بی جے پی ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ فاروقی نے کچھ ایسے ریمارکس کیے ہیں جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ان کیخلاف نازیبا زبان استعمال کی ہے۔ دریں اثنا حیدرآباد پولیس نے سیکورٹی بڑھا دی ہے اور حیدرآباد پولیس کمشنر کے دفتر کے باہر فورس تعینات کردی ہے۔ پولیس نے شہر کے مختلف حصوں میں سیکورٹی بھی بڑھا ئی گئی ہے۔
پولیس کی ناکامی ،تکنیکی بنیاد پر پولیس ریمانڈ میں دینے سے عدالت کا انکار
راجہ سنگھ کو آج صبح اس کے مکان واقع منگل ہاٹ سے کمشنر ٹاسک فورس پولیس نے منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں درج شدہ ایک مقدمہ میں گرفتار کرکے بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور شام کو نامپلی میٹروپولیٹین کورٹ میں پیش کیا ۔ جیسے ہی رکن اسمبلی کو 14 ویں ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹین مجسٹریٹ جو فرقہ وارانہ نوعیت کے کیسیس کی خصوصی عدالت بھی ہے کے اجلاس پر پیش کیا اور 14 دن کی عدالتی تحویل میں دینے کیلئے استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ۔ اس پولیس ریمانڈ رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے راجہ سنگھ کے وکیل کرونا ساگر نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ منگل ہاٹ پولیس نے راجہ سنگھ کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی ہے اور سی آر پی سی کے دفعہ 41A کے تحت نوٹس دیئے بغیر ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔
اس استدلال پر مجسٹریٹ نے تکنیکی بنیاد پر پولیس ریمانڈ رپورٹ کو مسترد کردیا جس کے فوری بعد بی جے پی رکن اسمبلی کے وکیل نے درخواست ضمانت پیش کردی ۔ مختصر بحث کے بعد مجسٹریٹ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کردیا اور عدالت کے دفتری اوقات کی تکمیل ہونے کے باوجود بھی شام 7 بجے راجہ سنگھ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ۔ عدالت نے رکن اسمبلی کو شخصی ضمانت کے علاوہ اسے اچھے برتاؤ کیلئے پابند مچلکہ کیا ۔ منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں آغا پورہ کے ساکن قدیر خان کی شکایت پر پولیس نے تعزیرات ہند کا دفعات 153A ، 295A ، 504 ، 505(2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا اور یہ تمام دفعات کے تحت صرف سزاء صرف 7 سال کی ہوسکتی ہے اور ان دفعات کیلئے ملزم کو گرفتاری سے قبل سی آر پی سی کے د فعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کرنا لازم ہے اور عدالت عالیہ کے اس رہنمایانہ خطوط پر عدم عمل آوری پر متعلقہ عدالت کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔
مجسٹریٹ نے استغاثہ کے دباؤ کے باوجود بھی راجہ سنگھ کی پولیس ریمانڈ رپورٹ قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ جس کے بعد پولیس عہدیدار پس و پیش کا شکار ہوگیا۔راجہ سنگھ کی اس حرکت نے بین الاقوامی سطح پر برہمی پیدا کردی ہے لیکن پولیس کی گرفتاری اور اسی دن ضمانت پر رہائی سے یہاں کی عوام مزید ناراض ہوگئی ہے ۔ عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کئے جانے پر راجہ سنگھ نے احاطہ عدالت میں اپنے وکلاء کے ساتھ خوشیاں منائی اور بعد ازاں اپنی ذاتی بولٹ پروف کار میں مکان کیلئے روانہ ہوگیا ۔ قبل ازیں بی جے پی رکن اسمبلی کو عدالت میں پیش کئے جانے کے دوران احاطہ عدالت کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا اور کورٹ کے باہر دو گروپس میں نعرے بازی پر ٹاسک فورس نے دونوں گروپس کو منتشر کرنے کیلئے جم کر لاٹھی چارج کیا ۔



