ممبئی25جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتے ہوئے شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے دعویٰ کیاہے کہ شیوسینا ملک کی پہلی پارٹی ہے جو ہندوتوا کے مسئلہ پر الیکشن لڑتی ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ شیوسینا کا ہندوتوا صرف کاغذوں پر ہے۔
1980 کی دہائی میں ممبئی میں وِلے پارلے اسمبلی سیٹ کے لیے ہوئے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے سنجے راوت نے صحافیوں کوبتایاہے کہ شیو سینا کے امیدوار رمیش پربھو نے ہندوتوا کے مسئلے پر الیکشن لڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابی سیاست میں پہلی بار ہندوتوا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ اس ضمنی انتخاب میں کانگریس اور بی جے پی بھی میدان میں تھیں۔پربھو نے 1987-88 کے ضمنی انتخابات میں ولے پارلے اسمبلی سیٹ جیتی تھی اور 1990 کے اسمبلی انتخابات میں اس سیٹ کو برقرار رکھا تھا۔
سنجے راوت نے اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس پرحملہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ جیت کے بعدبی جے پی ہندوتوا کے مسئلے پر اتحاد بنانے کے لیے شیوسینا کے پاس آئی اور بالاصاحب اس لیے راضی ہو گئے کیونکہ وہ ہندو ووٹوں کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ بی جے پی کے عصری لیڈر اس تاریخ سے ناواقف ہیں۔



