نئی دہلی/17جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریسی لیڈر ششی تھرور نے بی جے پی کے زیر انتظام کئی ریاستوں میں آبادی کنٹرول کے لئے وضع کی جانے والی پالیسیوں کو ایک مخصوص طبقہ (مسلمانوں) کو نشانہ بنانے کی ’ کوشش ‘ قرار دیا ہے۔ششی تھرور نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی سیاسی فائدے کے لئے یہ معاملہ اٹھا رہی ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے لئے اگلے 20 سالوں میں سب سے بڑا چیلنج معمر لوگوں کی آبادی ہوگی ، آبادی میں اضافہ چیلنج نہیں ہوگا۔
#تروونت پورم سے رکن #پارلیمنٹ #ششی #تھرور نے کہا کہ یہ اتفاقی امر نہیں ہے کہ تین ریاستیں جن کی حکومتیں آبادی کم کرنے کی بات کر رہی ہیں ، وہ یوپی ، #آسام اور لکش دیپ ہیں ۔ششی تھرور نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان ریاستوں میں متوقع متأثرین کون لوگ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں تھرور نے #آسام میں آبادی پر قابو پانے کی مہم کو لے کر کہا کہ سخت گیر #ہندوتوا طاقتوں نے آبادکاری کے موضوع کا حقیقی مطالعہ ہی نہیں کیا ہے،بلکہ اس کا ارادہ خالصتاً سیاسی اور فرقہ وارانہ ہے۔
واضح ہو کہ رکن #پارلیمنٹ اور کئی مشہور #کتابوں کے مصنف و ادیب ششی تھرور نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں ،جب یوپی کی یوگی سرکار نے آبادی کنٹرول ڈرافٹ کو عوامی کر دیا ہے ،نیز آسام حکومت نے بھی اس سلسلے میں اقدامات شروع کردیئے ہیں ۔ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔یوپی کے ڈرافٹ بل میں کہا گیا ہے کہ دو سے زائد بچوں کے والدین کو متعدد سرکاری اسکیموں کی سہولیات سے محروم رکھا جائے گا ، جبکہ دو بچوں کی پالیسی پر عمل کرنے والوں کوسرکاری مراعات سے نوازا جائے گا ۔



