بین ریاستی خبریں
بنگال میں بی جے پی کولگ سکتا ہے جھٹکا بابل سپریو کے بعد لاکٹ چٹرجی کی ٹی ایم سی میں شمولیت کا امکان
نئی دہلی ،27؍ ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بنگال میں بی جے پی کی انتخابی شکست کے بعد ایک اور جھٹکا لگ لگتا ہے۔ بابل سپریو کے بعد اب قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ہگلی سے بی جے پی رکن اسمبلی لاکٹ چٹرجی بھی پارٹی چھوڑ دیں گے۔ ذرائع کے مطابق ٹی ایم سی قیادت لاکٹ چٹرجی سے بات چیت کر رہی ہے۔ ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری کنال گھوش نے دعویٰ کیا ہے کہ لاکٹ چٹرجی نے بھوانی پور میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے انکار کردیا ہے۔
کنال گھوش نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ کنال گھوش کے ٹویٹ کے بعد سے قیاس آرائیوں کا بازار مزید گرم ہوگیا۔کنال گھوش نے لکھا کہ بھوانی پور میں انتخابی تشہیر نہ کرنے کے لیے اسٹار پرچارک لاکٹ چٹرجی کو مبارکباد۔ بی جے پی کی کئی درخواستوں کے بعد بھی آپ نہیں گئیں۔ ایک دوست کی شکل میں آپ جہاں بھی ہو آپ کے کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔ دنیابہت چھوٹی ہے۔
امید ہے کہ وہ دن دوبارہ واپس آئیں گے جب آپ نے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کیا تھا۔معلومات کے مطابق لاکٹ چٹرجی مختلف وجوہات کی وجہ سے پارٹی میں الگ تھلگ محسوس کر رہی ہیں۔ وہ بنگال میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سربراہ تھیں ، لیکن ان کو ہٹاکر اگنی مترا پال کو مہیلا مورچہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ مودی کابینہ کی توسیع میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے لاکیٹ ناراض ہیں۔
نیزایک رکن پارلیمنٹ ہونے کے باوجود لاکٹ اسمبلی انتخابات میں انہیں میدان میں اتارنے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ اس پورے معاملے پر لاکٹ چٹرجی کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔



