
اپنی ہی حکومت میں بھاجپا ممبراسمبلی بے بس کرونا پازیٹو بیٹے کی موت کے بعد نجی اسپتال کیخلاف ایف آئی آر کیلئے بھٹک رہے ہیں
لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہردوئی کے سندیلا سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ممبر اسمبلی راجکمار اگروال لکھنؤ کے نجی اسپتال کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے ایک ماہ سے پولیس اسٹیشن اور افسران کے دفتر کا چکر لگار ہے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے لے کر وزیر صحت تک کے وزاراء سے شکایت کی۔ لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہو سکی ہے۔
خیال رہے کہ مذکورہ ممبر ا سمبلی کا بیٹا 26 اپریل کو کاکوری کے اتھروا اسپتال میں فوت ہوگیا تھا ۔ ایم ایل اے کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کی موت اسپتال کی غفلت کے باعث ہوئی۔ایم ایل اے راجکمار اگروال کے 30 سالہ بیٹے کو کرونا ہوگیا تھا، 22 اپریل کو اسے لکھنو کے کاکوری کے اتھرو اسپتال میں داخل کرایا گیا، 26 اپریل کو صبح میں آکسیجن لیول 94 تھا، وہ کھا پی بھی رہا تھا او ر لوگوں سے بات چیت بھی کر رہا تھا۔
اچانک شام کو ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کے بیٹے کی آکسیجن لیول کم ہو رہی ہے۔ اس پر ، اس کے دوسرے بیٹے باہر سے آکسیجن سلنڈر لائے ،تو ڈاکٹروں نے آکسیجن مریض تک پہنچنے نہیں دیا۔ کافی سفارش کے باوجود آکسیجن لینے نہیں دیاگیا، اور تھوڑی ہی دیر کے بعد آشیش کی موت ہوگئی ۔ایم ایل اے راجکمار اگروال کا کہنا ہے کہ اسپتال کی لاپرواہی بیٹے کی موت کا کا باعث بنی، ایسا کسی اور کے ساتھ نہ ہوا ، اس لئے اسپتال کے خلاف انہوں نے کاکوری پولیس اسٹیشن میں شکایت کی۔
لیکن پولیس نے سی ایم او کی طرف سے تفتیش کے بغیر رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سی ایم یوگی سے لے کر وزیر صحت کے وزراء سے اس سلسلے میں التجا کی ہے، لیکن 26 اپریل کو دی گئی تحریر پر مقدمہ ابھی تک درج نہیں کیا گیا۔
متأثرہ ممبراسمبلی کے مطابق اس دوران میں نے پولیس کمشنر سے ڈی جی پی سے بات کی ، لیکن کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جبکہ انسپکٹر کاکوری برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین دن پہلے ہی چارج سنبھالا ہے ، پرانے تھانیدار نے ایم ایل اے کی تحریر انہیں نہیں دی ہے، دوسری تحریرلے کر مقدمہ درج کیا جائے گا۔



