
سنگیت سوم کی پھر اشتعال انگیزی،جہاں بھی مند ر توڑ کر مسجد بنائی گئی ،وہاں بھاجپا دوبارہ مندر تعمیر کرے گی
میرٹھ؍نئی دہلی ، 21ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی کے میرٹھ ضلع کے سردھنہ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم ہمیشہ اپنے بیانات کو لے کر تنازعہ کا شکار رہتے ہیں ۔اسی تناظر میں ایک بار پھر ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے مزعومہ طریقۂ کار سے مساجد کے متعلق متنازعہ بیان دے ڈالا۔
میرٹھ میں منگل کے روز پریس کانفرنس کے دوران ممبراسمبلی سنگیت سوم نے کہا کہ ’ریاست میں جہاں بھی مندر منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی ہے ، بی جے پی وہاں مندر دوبارہ تعمیر کر ے گی‘۔ ممبراسمبلی سنگیت سوم نے ایس پی سپریمو اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا اور انہیں ’موسمی ہندو ‘قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی حکومت میں سادھوؤں پر لاٹھی چارج کرائی تھی ، وہ اب ہری دوار جاکرسادھوؤں سے معافی مانگ رہے ہیں۔ واضح ہو کہ صوبہ میں حکومت کے ساڑھے چار سال مکمل ہونے پر تمام 403 اسمبلی حلقہ میں ممبرانِ اسمبلی نے اپنی حکومت کی کامیابیوں گنوائیں ۔ میرٹھ کی سردھنہ سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم نے بھی 150 صفحے کے رپورٹ کارڈ کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے اپنی حکومت کی کامیابی گنوائی ۔
اس دوران متنازعہ بیان کے علاوہ تمام کامیابیوں کو گنتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی کئی لوگ ’موسمی ہندو ‘بن جاتے ہیں، اور ایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے تو بھگوان وشوکرما کا مندر بنانے کا بھی اعلان کردیا ہے۔
سنگیت سوم نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے لوگوں کو رہنے لائق فضا فراہم کی ہے ۔ عوام سیکورٹی کے اعتماد کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی تمام اسکیموں نے لوگوں کو بڑی راحت دی ہے۔
سنگیت سوم نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ 2022 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں 350 نشستوں کے ساتھ بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔خیال رہے کہ 2013 میں مظفر نگر فرقہ ورانہ فسادا ت کے تناظر میں ممبراسمبلی سنگیت سوم کی شخصیت مشکوک ثابت ہوئی ہے ۔



