خواص-نمک سیاہ,حکیم محمد عدنان حبان نوادر,رحیمی شفا خانہ بنگلور
یہ ہمالیہ کی ترائیوں، تبت، بھوٹان وغیرہ میں پایا جاتا ہے
مقام پیدائش: یہ ہمالیہ کی ترائیوں، تبت، بھوٹان وغیرہ میں پایا جاتا ہے جسے مختلف جڑی بوٹیوں کو شامل کرکے پھر تیار کیا جاتا ہے۔
مختلف نام: ہندی کالا نمک، گجراتی سونچالون، تیلگو نل پپو، دکنی پادرہ نمک، فارسی نمک سیاہ اور انگریزی میں بلیک سالٹ (Black Salt) کہتے ہیں۔ اس کا رنگ کالا ہوتا ہے اس لئے اسے کالا نمک کہا جاتا ہے۔
فوائد: کالا نمک ہاضم، دانت اور دیگر دردوں کو دفع کرتا ہے۔ بطور ادویات اس کا استعمال خاص طور پر پیٹ کے امراض میں کیا جاتا ہے۔ یہ دافع کف بھی ہے۔
گلے کا ورم: کالے نمک کے نیم گرم پانی کے غرغرے کرنے سے گلے کا درد اور سوجن رفع ہوجاتی ہے۔
کھانسی: سینے میں کف سوکھ کر چپک جائے تو بار بار تیز کھانسی آتی ہے۔ مریض مایوس ہوجاتا ہے اور پتلا جھاگ جیسا کف نکلتا ہے، ایسے سوکھے کف کو پگھلانے کے لئے سینہ پر تیل لگاکر سیاہ نمک کی پوٹلی گرم کرکے سینکیں تو جلد فائدہ ہوگا۔ نمونیہ میں بھی اسی طرح سینکنا مفید ہے۔
دفع بلغم: 100 گرام نیم گرم پانی میں کالا نمک ڈال کر پلانے سے قے ہوتی ہے اور بلغم باہر نکلتا ہے۔
گیس غبار کا درد: اجوائن اور کالا نمک ملاکر لینے سے پیٹ میں غبار سے ہونے والا درد دور ہوجاتا ہے۔ نہایت مفید چیز ہے۔
ہاضمہ کیلئے: ادرک کا رس، لیموں کا رس اور کالا نمک ملاکر صبح اور شام پینے سے ہاضمہ درست ہوجاتا ہے۔
مقدار خوراک: دو تین گرام نیم گرم پانی سے استعمال کریں، اگر قے بھی ہوجائے تو گھبرائیں نہیں۔ اس سے ہاضمہ ٹھیک ہوجائے گا۔
قبض: قبض ہوجانے پر نیم گرم پانی ایک گلاس میں دو گرام سیندھا نمک اور کالا نمک گھول کر پی لیں اور آدھا حصہ لیموں نچوڑ کر خالی پیٹ پی لیں۔ پندرہ منٹ میں پیٹ صاف ہوجائے گا، بلڈپریشر کے مریض نہ لیں۔ ملیریا: کالے نمک کو توے پر لال ہونے تک سینک کر نیم گرم پانی میں تقریباً 5 گرام لینے سے ہاضمہ کی خرابی، پیٹ کی خرابی اور ملیریا میں فائدہ ہوتا ہے۔
دوائے پیٹ درد: نمک لاہوری، نوشادر، مرچ کالی ہر ایک 10 گرام، پپلی 6 گرام، نمک کالا 4 گرام، سہاگہ(بریاں) تین گرام، ہینگ (مدبر) 2 گرام سب کو پیس کر سفوف بنالیں۔ دو گرام صبح شام پانی سے دیں۔
بدہضمی: جب مریض کو بدہضمی، اپھارہ اور قبض یاہاضمہ کی خرابی ہو تو آنتوں میں پرانا غلیظ مادہ سوکھ کر سڑجاتا ہے اور سدے بن جاتے ہیں۔ اس کے لئے پوست ہلیلہ زرد 5 گرام، سونٹھ اور اجوائن 10 گرام کو کالا نمک کے ساتھ پیس کر کھلائیں۔
ایسا بھی مانا جاتا ہے کہ یہ نمک ہاضمہ بہتر کرسکتا ہے، جلاب کش اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ گیس اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے ریلیف دلاتا ہے۔ معدنیاتی عنصر کی وجہ سے کالا نمک ممکنہ طور پر جلد اور بالوں کی صحت کو بہتر بناسکتا ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
کالا نمک عام نمک سے زیادہ صحت بخش
کالے نمک میں معدنیاتی عناصر کی زیادہ مقدار ممکنہ پائی جاتی ہے، جو زیادہ اہمیت کا حامل نہیں سمجھی جاتی۔ کیونکہ ہمارا جسم ان کو اچھی طرح جذب نہیں کرپاتا جبکہ ایک وقت میں بہت کم مقدار میں نمک کا استعمال ہوتا ہے۔نمک میں موجود معدنیات اس لیے آسانی سے جذب نہیں ہوپاتی کیونکہ وہ حل نہیں ہوتی، ویسے کالے نمک میں عام نمک کے مقابلے میں ایڈیٹو اجزا کم ہوتے ہیں تو یہ مختلف نقصانات سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے مگر وہ بھی اعتدال میں رہ کر استعمال کرنے پر۔
نمک کی قسم جو بھی ہو طبی ماہرین روزانہ 2300 ملی گرام نمک کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔تو کالے نمک کا استعمال کیا جاسکتا ہے جس کا ذائقہ منفرد ہوتا ہے اور مختلف پکوانوں کا ذائقہ بھی بڑھا سکتا ہے۔
تیزابیت: پیٹ پھولنا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہوسکتا ہے جن میں حد سے زیادہ کھانا، الرجی، قبض وغیرہ شامل ہیں۔ کالے نمک کی الکلائن خصوصیات معدے میں اضافی تیزابیت کو کم کرتی ہیں اور اس میں موجود منرلز سینے میں جلن سے ہونے والے نقصان کو کم کرتے ہیں۔ یہ ہلکے جلاب کی طرح کام کرکے معدے کے مسائل سے بھی نجات دلاتا ہے۔
اکڑاہٹ سے نجات: کالے نمک black salt میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ مسلز کے افعال کو ریگولیٹ کرنے والا جز ہے اور دیگر منرلز کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لئے یہ مسلز کی اکڑن کی تکلیف سے ریلیف دلانے میں مدد دیتا ہے۔
فاسد غلیظ پانی کا علاج: ٹشوز میں سیال کے اکھٹا ہوجانا یا جسم میں کیویٹیز وغیرہ پانی کے اجتماع کا باعث بنتا ہے جو کہ عام طور پر زیادہ نمک کے استعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کالے نمک میں سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے اور غلیظ پانی کے اجتماع کا اچھا علاج ہے۔
دوران خون: کالا نمک قدرتی طور پر خون کو پتلا کرکے جسم میں درست دوران خون کی گردش کو یقینی بناتا ہے، اسی طرح یہ خون کا لوتھڑا بننے اور کولیسٹرول کے مسائل کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
ورم کش: کالا نمک ورم کش خصوصیات رکھتا ہے اور یہ ایڑیوں کے پھٹنے، پیروں کی سوجن وغیرہ کیلئے فائدہ مند ہے۔ اسے کلینزر کے طور پر استعمال کرکے بند بلاک مسام کو کھولا جاسکتا ہے اور جگمگاتی جلد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔٭



