فشار خون-بلڈپریشر زیادہ ہو یا کم دونوں نقصاندہ
ہائی بلڈ پر یشر یا ''ہائپر ٹینشن Hypertension کو ’’خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے
ہائی بلڈ پر یشر یا ”ہائپر ٹینشن Hypertension کو ’’خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے اور جب انہیں پتہ چلتا ہے تو بہت تاخیر ہو چکی ہوتی ہے اور جو نقصان ہو چکا ہوتا ہے اسے واپس لوٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر آپ کا بلڈ پریشر زیادہ ہے تو ایسی صورت میں آپ کی شریانیں اور وریدیں زیادہ مقدار میں خون پورے جسم میں دھکیل رہی ہوتی ہیں جس سے خون کی نالیوں کی اندرونی دیواروں پر دبائو بڑھتا ہے اور انہیں نقصان پہنچتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ نقصان مستقل نوعیت کا ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے خون کی ان نالیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے جو گردوں تک خون لے جاتی یا واپس لاتی ہیں۔ گردوں کے خون صاف کرنے کے نظام کو بے شمار خون کی نالیوں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے خون فراہم کیا جاتا ہے۔
جب ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی ان نالیوں کو نقصان پہنچتا ہے تو گردوں کو وہ آکسیجن اور غذایتیں نہیں ملتی ہیں جن کی مدد سے وہ جسم میں موجود سیال مادوں سے زہریلے اجزا چھان کر الگ کرتے ہیں۔ آپ کے گردے ایک ہارمون Aldosterone بھی تیار کرتے ہیں۔ یہ ہارمون بلڈ پریشر کو باقاعدہ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب گردے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے نقصان زدہ ہو جاتے ہیں تو وہ مناسب مقدار میں یہ اہم ہارمون تیار کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس طرح ایک تخریبی چکر شروع ہو جاتا ہے اور گردوں کو پہنچنے والا نقصان وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ لو بلڈ پریشر‘‘ (Low Blood Pressure) یعنی ضرورت سے کم بلڈ پر یشر بھی نقصان دہ ہے جس میں اعضاء کو خون کی وہ مقدار نہیں پہنچتی ہے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ ان اعضاء میں گردے بھی شامل ہیں جو مناسب طور پر کام کرنے کیلئے آکسیجن اور غذائیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک، کڈنی فیلیئر یا فالج کی صورت میں نکلتا ہے۔ آپ کا بلڈ پر یشر ہائی ہو یالو ہو دونوں صورتوں میں اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ آپ اگر کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں اور صحت مند ہیں تو بھی سال میں کم از کم ایک بار اپنا بلڈ پریشر لازما چیک کروائیں۔ اگر آپ کے خاندان کے دیگر افراد میں بلڈ پریشر کی شکایتیں رہی ہیں یا موجود ہیں تو آپ کو زیادہ محتاط طریقے سے بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت اپنانی چاہئے۔



