بین ریاستی خبریں

سنگھو بارڈر پر سفاکانہ قتل کی خونیں داستاں: نہنگ سربجیت سنگھ نے کاٹا لکھ بیر کا ہاتھ ، نارائن نے توڑی ٹا نگیں

نئی دہلی؍ سونی پت ، 18اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دارالحکومت دہلی اور ہریانہ کی سنگھو سرحد پر ایک شخص کے بے رحمانہ قتل کے معاملہ میں اب صورتحال تقریباً واضح ہے۔ اس معاملہ میں عدالت اب تک ایک ملزم کوسات دن جبکہ تین ملزموں کو چھ دن کیلئے سونی پت کی پولیس ریمانڈ پر بھیج چکی ہے۔

اتوار کے روز سول جج جونیئر ڈویژن سنگلا کی عدالت میں پیشی کے دوران نہنگوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔واضح ہو کہ ہریانہ کرائم برانچ اور سونی پت پولیس نے اتوار کو نہنگ نارائن سنگھ ، بھگونت سنگھ اور گووند پریت سنگھ کو عدالت میں پیش کیا تھا۔ اس دوران تین نہنگ ملزمان نے عدالت میں واضح طور پر بتایا کہ وہ ترن تاران پنجاب میں رہنے والے ایک دلت شخص لکبیر سنگھ کے قتل میں ملوث تھے۔

اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے مذہب کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اگر (سربلوہ مذہبی کتاب) کی بے حرمتی ہوتی ہے تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اس سے قبل واقعے کے دن نہنگ سربجیت سنگھ نے قتل کا اعتراف کیا تھا۔اس سے قبل ہفتے کے روز ، نہہگ سربجیت سنگھ ، جنہیں سونی پت عدالت میں پیش کیا گیا تھا ، نے کہا تھا کہ لکبھیر سنگھ کے قتل میں آٹھ افراد ملوث ہیں ، جن میں سے وہ تین کے نام جانتے ہیں۔ جبکہ باقی کو چہرے سے پہچان سکتے ہیں ۔

اسی دوران اتوار کو نارائن سنگھ نے عدالت میں کہا کہ وہ چار لوگ لکھ بیر کے قتل میں ملوث تھے۔ سربجیت سنگھ نے اس کا ہاتھ کاٹا تھا اور میں نے ٹانگ پر تین وار کیے ، جس کی اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ اس کے بعد بھگونت سنگھ اور گووند پریت سنگھ نے مل کر اسے رسیوں سے باندھ کر بیری کیڈنگ پر لٹکا دیا۔

نارائن نے یہ بھی کہا کہ لکھ بیر تقریباً 45 منٹ تک تکلیف میں مبتلا رہا ، جس کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ اس کے قتل میں ہمارے علاوہ کوئی اور ملوث نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی نارائن سنگھ نے کہا کہ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے ، کیونکہ لکھ بیر سنگھ نے سربلوہ کتاب کی بے حرمتی کی تھی ، اوروہ 200-400 لوگوں کے ساتھ مقدس کتاب کی دو کاپیاں لے کر بھاگتا ہوا دیکھا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button