زلزلوں سے پہلے بلیو فلیش کی حقیقت کیا ہے؟ ماہرین کی آراء سامنے آگئیں
اس مظہر کو EQL EarthQuake Lights کہا جاتا ہے۔
ریاض، 11ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ترکیہ اور مراکش میں زلزلوں سے پہلے افق پر نمودار ہونے والی نیلی روشنی کی پراسرار چمک کو دیکھنے کے بعد ماہرین کی طرف سے اس پراسرار فلکی مظہر کے بارے میں آراء سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔سعودی عرب کی القصیم یونیورسٹی سے منسلک ماہرموسمیات اور سعودی ویدر اینڈ کلائمیٹ سوسائٹی کے نائب صدر عبداللہ المسند نے اس معاملے پر اپنی علمی رائے پیش کی ہے۔المسند نے اتوار کو ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ یہ واقعہ دنیا میں ایک سے زیادہ بار زلزلوں کے واقعات میں دیکھا گیا ہے۔ کئی باراس کی عکس بندی بھی کی گئی اور یہ منظر کیمروں میں ریکارڈ ہوگیا۔اس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بصری اور خصوصی واقعہ کچھ زلزلوں سے منسلک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زلزلے کے مرکز سے نکلتی ہے جہاں فالٹ لائن واقع ہے۔ یعنی یہ ٹیکٹونک دباؤ کی سب سے زیادہ مقدار والے مقام سے نکلتی ہے۔
اس مظہر کو EQL EarthQuake Lights کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مظہر کی سائنسی تشریح اب بھی ماہر سائنسدانوں کے ہاں زیر بحث ہے۔ ان کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ زلزلہ چٹانوں میں برقی چارجز کو متحرک کرتا ہے۔جس سے لاکھوں منفی چارج شدہ آکسیجن ایٹم ٹوٹ جاتے ہیں۔ چٹانیں پس جاتی اور پھر یہ آکسیجن سطح پر آکر چارج شدہ گیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو روشنی خارج کرتی ہے۔انہوں نے کہا یہ کہا جاتا ہے کہ جب ایک مضبوط زلزلہ کی لہر زمین سے گزرتی ہے، تو یہ چٹانوں کو مضبوطی اور تیزی سے سکیڑتی ہے، جس سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جہاں سے مثبت اور منفی برقی چارجز کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو پلازما سٹیٹ کہا جاتا ہے، جو پھٹ سکتی ہے اور آگ کو ہوا میں چھوڑ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ مٹی کیتودوں کے پھسلنے اور ٹوٹنے سے لاکھوں وولٹ الیکٹرو سٹیٹک چارج پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ امریکی جیولوجیکل سروے اس بارے میں محتاط ہے کہ زلزلے کی روشنیاں واقعی موجود ہیں یا نہیں؟پروفیسر المسند نے وضاحت کی ہے کہ ہر بار آنے والے زلزلے کے ساتھ روشنیاں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ یہ بہت کم ہوتی ہیں۔ اس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ بعض مطالعات کے مطابق زلزلے کی روشنی کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جب اس کی شدت زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 ڈگری یا اس سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے دوران کہرمان اور ھاتائے صوبوں میں زلزلوں سے قبل متعدد روشنیاں مسلسل نمودار ہوئیں۔ مراکش کے زلزلے سے قبل بھی نیلی روشنی کی چمک دیکھی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مراکش کی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ کی رات مراکش کے جنوب میں مراکش کے وسیع علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد اتوار کی سہ پہر تک بڑھ کر کم از کم 2,122 ہو گئی اور 2,421 زخمی ہوئے ہیں۔
أحد الأخوان من المغرب الشقيق أرسل لي هذا المقطع الغريب من كاميرا مراقبة لمنزله في مدينة أغادير لحظة وقوع الزلزال…
ظهرت ومضات ضوء زرقاء غامضة في الأفق ولا أحد يعرف ماهي.
مع العلم أن هذه الأضواء ظهرت نفسها لحظة وقوع زلزال تركيا وسوريا قبل 7 أشهر.
هل يوجد لدى أحد تفسير؟ pic.twitter.com/q845XXSlYu
— إياد الحمود (@Eyaaaad) September 9, 2023



