
نیویارک،18اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی فضائیہ نے کہا ہے کہ وہ ان انسانی اعضا کے متعلق چھان بین کر رہی ہے جو افغانستان کے دارالحکومت کابل سے اڑنے والے 17-C طیاروں میں سے ایک کے پہیے کے کنارے میں پائے گئے تھے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے شروع میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں کابل چھوڑنے کے لیے بے تاب افغان شہریوں کو سی-17 طیارے کی طرف بھاگتے اور اس کے ساتھ لپٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں دو افراد کابل سے اڑان بھرنے والے اس فوجی طیارے سے گرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ امریکی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایک C-17 طیارہ پیر کے روز کابل ایئرپورٹ پر اترا اور اس کے اردگرد سینکڑوں افغان شہری تھے۔
اطراف میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے باعث C-17 کے عملے نے جلد سے جلد ایئرفیلڈ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائیہ کا خصوصی تفتیشی دفتر طیارے اور ’انسانی جانوں کے ضیاع‘ کے حوالے سے معلومات کا جائزہ لے رہا ہے۔خیال رہے کہ کابل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے امریکی طیارے C-17 میں 640 افغان شہریوں کے سفر کی تصویر دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق پیر کو امریکی فضائیہ کا ٹرانسپورٹ C-17 طیارہ بحفاظت 640 افغان شہریوں کو ملک سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔
امریکی طیارے سے لوگوں کے گرنے کی اطلاعات کی تفتیش کا آغاز
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے امریکیوں کے انخلاء کی کاروائیوں کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے وہاں کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لئے ان فوجی لیڈروں سے بات کی ہے جو ایئرپورٹ کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کابل سے نکلنے والے سویلینز کی محفوظ منتقلی اور انخلا کے کام میں مصروف پروازوں کے لئے ائیر پورٹ کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایئرپورٹ کا ایئر فیلڈ محفوظ ہے اور اسے سویلین پروازوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی فوجی اور محکمہ خارجہ کے اہل کارمل جل کر ایئر پورٹ کی حفاظت کو یقینی اور انخلاء کی کارروائی کو محفوظ بنا رہے ہیں۔جنرل میکینزی نے مزید کہا کہ اتوار کے روز دوحہ میں طالبان کے سینئر لیڈروں سے میٹنگز میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں اور شہریوں کے انخلاکے کام میں مداخلت نہ کریں۔ اور اگر اس دوران کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی شہریوں اور اپنے رفقاء کی حفاظت امریکہ کی اولین ترجیح ہے اور امریکی سفارت خانہ ان کے انخلا اور خطرے میں گھرے #افغان #شہریوں کو خصوصی ویزے جاری کر نے کا کام کر رہا ہے۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں خوف اور کنفیوڑن ہے جب کہ ایئر پورٹ پر لوگوں کا رش ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ امریکہ میں ایئر فورس کے محکمے کا خصوصی چھان بین کا دفتر او ایس آئی یا آفس آف سپیشل انویسٹی گیشن، اس واقعے کی تمام اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں 15 اگست کو کابل کے ائیرپورٹ سے C-17 طیارے کی روانگی اور عام شہریوں کی ہلاکت کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور جس کی #ویڈیو اور سوشل میڈیا پر پوسٹس بھی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ آن لائن ویڈیوز اور خبروں میں جہاز کی #روانگی کے وقت لوگوں کو گرتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ اطلاعات کے مطابق #امریکی #طیارہ C-17 قطر کے العدید ایئرپورٹ پر اترا تو اس کے پہیوں میں #انسانی باقیات بھی پائی گئیں۔گزشتہ اتوار کے روز امریکی #ایئر فورس کا C-17 گولڈ ماسٹر طیارہ ساز و سامان لے کر حامد کرزئی #انٹرنیشنل پر اترا تو ابھی وہ سامان اتار بھی نہ پایا تھا کہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کی خلاف ورزی کرکے ایئرپورٹ کے اس علاقے میں موجود سینکڑوں افغان شہریوں نے طیارے کو گھیر لیا۔
چنانچہ طیارے کے گرد سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتِ حال کی وجہ سے عملے نے طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا اور بعد میں فضا میں طیارے سے کچھ گرتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایسے افراد ہو سکتے ہیں، جو طیارے کے بیرونی حصوں میں چھپ کر سفر کرنا چاہتے تھے۔



