
حیدرآبادانکاؤنٹر کی دھمکی کے دو دن بعد ریلوے ٹریک پر ملی عصمت دری اورقتل کے ملزم کی لاش
حیدرآباد،16؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ کے ایک وزیر کے ’انکاؤنٹر‘ کی وارننگ دینے کے دو دن بعد #حیدرآباد میں چھ سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کا ملزم آج ایک ریلوے ٹریک پر مردہ پایا گیا ،پولیس نے بتایا کہ جب وہ ٹرین کے سامنے چھلانگ لگا یا تو وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ منگل کو تلنگانہ کے وزیر ملا ریڈی نے کہا تھا کہ ملزم انکاؤنٹر میں مار ا جائے گا۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
ریڈی نے #حیدرآباد میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم عصمت دری کرنے والے اورقتل کرنے والے کو پکڑلیں گے ۔ پکڑنے کے بعد اس کا انکاؤنٹر ہوگا۔پولیس نے اس 30 سالہ ملزم پلاکونڈا راجو کی تصویر جاری کرکے 10 لاکھ کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ #ملزم لڑکی کا پڑوسی تھا ، جس نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ عصمت دری کرنے کے بعد اسے قتل کردیا۔ لڑکی اتوار کو راجو کے گھر کے اندر #مردہ پائی گئی تھی اور تب سے لاپتہ تھی۔لڑکی 9 ستمبر کو حیدرآباد کی سنگرینی کالونی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی۔
اس کی لاش اگلے دن پڑوسی کے گھر سے چادر میں لپٹی ہوئی ملی۔ پوسٹ مارٹم سے تصدیق ہوئی کہ لڑکی کو عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا اور گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ معلومات جھوٹی ہیں۔
اس کے بعد علاقے میں احتجاج اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ آس پاس کے لوگوں نے لڑکی اور خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
ملزم کے گھر کو نقصان پہنچایاگیا۔پولیس نے میرے بیٹے کو ہلاک کیا،ماں کا الزام
شہر حیدرآباد کی سنگارینی کالونی میں 6سالہ معصوم لڑکی کی عصمت دری کے ملزم راجو کے مکان کو مقامی افراد نے نقصان پہنچایا۔راجو کی خودکشی کے واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی کالونی کے برہم افراد نے اس کے مکان کے قریب جمع ہوکر اس کے مکان کو نقصان پہنچایااور کہا کہ کوئی بھی راجو کے #خاندان کو #پُرسہ نہ دے۔اسی دوران راجو کی ماں نے الزام لگایا کہ پولیس نے اس کے بیٹے کو ہلاک کیا ہے۔
بیٹے کی موت کی اطلاع پر ماں غم سے نڈھال ہوگئی۔ اس نے الزام لگایا کہ پولیس نے راجو کا قتل کرنے کے بعد لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینک دیا۔اس واقعہ کی اطلاع راجو کے ارکان خاندان کو پڑوسیوں سے ملی۔راجو کی بیوی مونیکا نے کہا کہ اس کے خاندان کا اب کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اس نے التجا کی کہ راجو کی لاش کو افراد خاندان کے حوالے کیا جائے۔
اس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس پر راجو کے قتل کا شبہ ظاہر کیا اور کہا کہ پولیس نے راجو کا کسی اور مقام پر قتل کرنے کے بعد لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینک دیا۔ مونیکا نے کہا کہ راجو کبھی خودکشی نہیں کرسکتا تھا اور وہ غلط نہیں تھا اس پر کمسن لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔
مونیکا نے کہا کہ اگر راجو نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے قانونی طور پر مجرم ثابت کرتے ہوئے قانون کے دائرہ میں سزا دی جانی چاہئے تھی۔ موینکا نے کہا کہ اس کا شوہر راجو پولیس کی حراست میں تھا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔راجو کی موت کی اطلاع کے ساتھ ہی اس کے گھر کی خواتین آہ وبکاکرنے لگیں۔
اسی دوران متاثرہ کے خاندان نے اس کی خودکشی کے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راجو کی اس سے زیادہ بُری موت ہونی چاہئے تھی۔اس لڑکی کے ایک رشتہ دار نے کہا کہ حکومت سے ہم نے مطالبہ کیا تھاکہ ملزم کو اس کے حوالے کیاجائے تاکہ اس کو سرعام پھانسی کی سزا دی جاسکے۔



