بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

سوٹ کیس سے برآمد لاش کا معمہ حل : ہم جنسی تعلقات کی آڑ میں مقتول کے ذریعہ بلیک میل کرنے کا انکشاف

نئی دہلی،2 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجدھانی کے سروجنی نگر میٹرو اسٹیشن کے باہر سوٹ کیس میں ملنے والی لاش کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ دہلی پولس نے جب اس کیس کا معمہ حل کرنا شروع کیا ،تو ازخود تفتیش کار بھی دنگ رہ گئے۔ دراصل یہ معاملہ قتل کا تھا، لیکن اس قتل میں ہم جنس پرستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ بلیک میلنگ کا پہلو بھی سامنے آگیا۔

پولیس نے اب اس معاملہ میں ایک تاجر سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ سوٹ کیس سے ملنے والی لاش کی شناخت 22 سالہ نوجوان کے طور پر ہوئی ہے۔ نوجوان تاجرکے یہاں سیلز مین کا کام کرتا تھا۔پولیس نے بتایا کہ جنوبی دہلی کے ایک مشہور تاجر کے اپنے ہی سیلز مین سے ہم جنس پرستانہ تعلقات تھے۔

کچھ عرصہ تو سب کچھ ٹھیک رہا لیکن کچھ دیر بعد سیلز مین نے تاجر کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اس سے پیسے بٹورنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سے پریشان ہو کر تاجر نے اسے قتل کرکے ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا۔نوجوان کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین شروع کی۔ اس دوران نوجوان کو آخری بار تاجر کے ساتھ دیکھا گیا۔

اس کے بعد پولیس نے تاجر سے سختی سے پوچھ گچھ کی ، تو پولیس کو ساری حقیقت اُگل دیا۔ تاجر نے بتایا کہ نوجوان کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات تھے۔ اس دوران نوجوان نے تاجر کے ساتھ جسمانی تعلقات کی خفیہ ویڈیو بنا لی۔

بعد ازاں اس نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور اہل خانہ کو دکھانے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے لگا۔ تاجر نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں، وقار ملیا میٹ ہونے کی بات سے ڈر گیا اور نوجوان نے اس کا فائدہ اٹھاکر اس سے پیسے بٹورنے لگا ۔

اس سے پریشان ہو کر تاجر نے نوجوان کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔اس کے لیے اس نے 28 جنوری کو خورجہ سے اپنے بھتیجے اور اپنے ایک دوست کو بلایا اور یوسف سرائے کے ایک گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا۔

پھر تاجر مقتول کو اپنے ساتھ گیسٹ ہاؤس لے گیا، وہاں اس نے نوجوان کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔ اس کے بعد لاش کو سوٹ کیس میں ڈال کر سروجنی نگر کے میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک سنسان جگہ پر پھینک دیا۔ پولیس نے اب تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

تاجر نے بتایا کہ وہ 19 جنوری کو ہی نوجوان کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن یوم جمہوریہ کے تناظر میں دہلی میں سخت سیکورٹی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکے، کیونکہ پولیس چیکنگ کی وجہ سے وہ لاش کو ٹھکانے نہ لگا سکتا تھا، اس کے بعد وہ 26 جنوری گزرجانے کا انتظار کرتا رہا اور پھر اپنے بھتیجے کو بلا کر نوجوان کو قتل کرکے ٹھکانے لگا دیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button