سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

بالی ووڈ کے مزاحیہ اداکار، فلم ساز، ہدایت کار, انور علی – سلام بن عثمان

انور علی نے 1968 میں فلم "سادھو اور شیطان" سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔

anwar ali actor تھیٹر اور بالی ووڈ کو ماضی اور حال کی نظر سے دیکھا جائے تو کئی اداکاروں نے ہندوستانی سنیما میں قدم رکھا، کچھ تو معمولی شناخت کے بعد خاموش ہوگئے تو کچھ شناخت کے ساتھ شہرت اور ان کی نسلوں نے بھی اسی طرح سنیما کے پردے پر اپنی بہترین اداکاری کے جلوے بکھیرتے ہوئے بالی ووڈ میں خاندان کا نام روشن کیا۔ جن میں کپور خاندان، فیروز خان خاندان، ممتاز علی خاندان، روشن خاندان کے ساتھ کچھ حد تک منوج کمار تک کی نسل سنیما کے پردے پر نظر آئی۔

بالی ووڈ میں کپور خاندان ایک ممتاز شو بزنس فیملی رہی۔ کپور خاندان کی کم از کم 4 نسلیں بالی ووڈ میں 94 سال سے زیادہ ہیں۔ کپور خاندان کے متعدد اداکار، اداکاراؤں دونوں معزز گھرانوں نے ایک ایسے خاندان میں شادی کی جہاں اداکار، فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے طور پر شاندار کیریئر رہے ہیں۔ کپور خاندان کے بانی تھے پرتھوی راج کپور۔ کپور خاندان کے پہلے فرد جنہوں نے 1928 میں اپنی پہلی فلم "دو دھاری تلوار” سے فلموں میں اداکاری شروع کی۔ وہ ہندوستانی تھیٹر کے علمبردار اور انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (IPTA) کے بانی رکن تھے۔ ان کا بیٹا راج کپور ہندی سنیما کا سب سے بااثر اداکار اور ہدایت کار تھے۔ فلموں میں اداکاری کرنے والے کپور خاندانی شجرہ کی جینیسس جنریشن یا سب سے قدیم لکیری نسل پرتھوی راج کپور کے والد بشیشورناتھ کپور سے شروع ہوتی ہے۔ جنہوں نے بطور اداکار 1951 میں فلم آوارہ میں ڈیبیو کیا۔ فلم ساز اور ہدایت کار اور مرکزی کردار ان کے پوتے راج کپور نے ادا کیا تھا۔ آج کپور خاندان کے بیٹے کی پانچویں نسل عالیہ رنبیر کپور کے ذریعے پروان چڑھ رہی ہے۔

وہیں دیکھا جائے تو فیروز خان، مشہور ڈانسر ممتاز علی، رجیش روشن اور راکیش روشن ان تمام کی نسلیں تقریباً خاموش ہو چکی ہیں۔

آج ایک ایسے اداکار کے متعلق لکھنے کا موقع ملا ہے۔ جن کا فلمی شجرہ مشہور ڈانسر ممتاز علی سے منسلک ہے۔ ممتاز علی کی بیٹی مینو ممتاز بہت بہترین ڈانسر کے علاوہ اداکارہ بھی تھیں۔ دوسرے مشہور مزاحیہ اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز محمود۔ ان کے بعد انور علی جنھیں فلم "بومبے ٹو گوا” سے شناخت ملی۔ جی ہاں اس خاندان کے سب سے چھوٹے بیٹے جنھوں نے بہت کم فلموں میں کام کیا مگر فلمی شائقین نے انھیں بہت پسند کیا۔

انور علی ممتاز علی کے ہاں 4 بھائیوں اور 4 بہنوں کے خاندان میں سب سے چھوٹے تھے. ممتاز علی 1940 کی دہائی سے فلموں میں بطور ڈانسر اور کریکٹر آرٹسٹ کے علاوہ اپنے ڈانس گروپ "ممتاز علی نائٹس” کے ساتھ مشہور تھے۔ ان کے بیٹے محمود ایک مشہور مزاحیہ اداکار تھے، جب کہ ان کی بہن مینو ممتاز فلموں میں بہترین ڈانسر کے علاوہ اداکارہ تھیں۔

انور علی نے 1968 میں فلم "سادھو اور شیطان” سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ویسے تو ان کی پہلی فلم خواجہ احمد عباس کی "سات ہندوستانی” تھی جس میں وہ ایک اہم کردار میں نظر آئے تھے۔ امیتابھ بچن کی بھی پہلی فلم سات ہندوستانی تھی۔ اس کے بعد انور علی کئی فلموں میں نظر آئے۔ جیسے وفا، البیلا، کارواں، پروانہ، بنسی برجو، منزل اور سب سے بڑا روپیہ، کاش، خودار جیسی کئی فلموں میں بہترین اداکاری کے ذریعے فلمی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی محمود کی مشہور فلم "بومبے ٹو گوا” میں ڈرائیور "راجیش” کا یادگار کردار بہت بہترین ادا کیا۔ اسی فلم سے انور علی کو بالی ووڈ میں شناخت ملی۔ جہاں محمود نے کنڈکٹر "کھنہ” کا کردار ادا کیا تھا۔ محمود نے راجیش اور کھنہ ایک نام کو دو حصوں میں بتایا۔ جس کی وجہ سے فلم کے کردار میں جان آ گئی۔ انور علی نے اپنے پورے فلمی سفر کی اداکاری کے دوران انہوں نے منفی کردار سے لے کر مرکزی کردار کے قریب رہ کر بھی مزاحیہ کردار کے ساتھ تمام طرح کے کردار ادا کیے۔

انہوں نے سپر ہٹ فلم "کنوارہ باپ” کو مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا۔ بلاک بسٹر ہٹ فلم "خودار” جس میں ان کے بہترین دوست امیتابھ بچن تھے۔ فلم نے سات کروڑ کا کاروبار کیا تھا۔ انور علی کی آخری فلم "کاش” کی ہدایت کاری مہیش بھٹ نے کی تھی۔2014 میں ان کے بڑے بھائی محمود کی 10 ویں برسی کے موقع پر، انور علی اور ان کے خاندان نے، بینڈ ویگن انٹرٹینمنٹ کے تحت، ریڈیو اور ٹی وی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اور ان کی فلموں کا سابقہ جائزہ لیا۔

لیجنڈری کامیڈین کی مقبول فلم، "بومبے ٹو گوا” کی ممبئی شہر میں ایک ہفتہ طویل نمائش بھی رکھی گئی۔ انور علی کی شادی مونا ماتھر سے ہوئی۔ اور ان کا ایک بیٹا ہے جس کا نام آکار علی ہے۔مونا علی نے 2004 میں امیتابھ اور انور علی کی دوستی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک کتاب "امیتابھ اینڈ آئی میموئریز انور علی” لکھی۔انور علی نے بہت کم فلموں میں کام کیا مگر فلمی شائقین انھیں ہمیشہ فلم "بومبے ٹو گوا” سے یاد رکھیں گے۔

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button