بالی ووڈ کی بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین سنہرے سفر کے فلم ساز،ہدایت کار، سنجیدہ مزاحیہ اداکار دیوان ورما
سلام بن عثمان
بالی ووڈ میں مزاحیہ کردار کا اثر
بالی ووڈ نے شروع سے ہی فلموں میں مزاحیہ انداز کو ترجیح دی ہے اور اس مزاحیہ انداز کی وجہ سے فلمی شائقین سنیما گھروں میں ہنستے نظر آتے ہیں۔ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بغیر مزاحیہ کردار کی فلم بے معنی لگتی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے خوفناک ڈراونی فلموں میں بھی مزاحیہ کردار کو رکھا جاتا ہے۔
مزاحیہ کردار کی اہمیت
یہاں تک کہ فلم کے ہیرو نے بھی اپنے مداحوں کو خوش کرنے کے لئے مزاحیہ انداز کو اپنایا جس میں راجکپور سر فہرست ہیں، انھوں نے چارلی چیپلن کے طرز انداز کے ذریعے اپنے مداحوں کو متوجہ کیا۔ جانی واکر، محمود، امیتابھ بچن، اور پھر رشی کپور کے علاوہ کئی اسٹار اور سپر اسٹار نے مزاحیہ انداز کو اپنایا اور مداحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
مزاحیہ کردار کی شہرت پر اثر
مزاحیہ کردار بھی اداکار کو شہرت کی بلندی پر پہنچانے میں کافی مدد کرتا ہے اور مزاحیہ کردار ان کو ایک منفرد انداز بھی بخشتا ہے۔ بالی ووڈ میں کئی مزاحیہ اداکاروں نے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے جن میں 70 اور 80 کے دہائی میں دیون ورما نے بھی اپنی منفرد سنجیدہ مزاحیہ اداکاری کے ذریعے لوگوں کو خوب ہنسایا۔
دیون ورما کی ابتدائی زندگی
دیون ورما 23 اکتوبر 1937 کو گجرات کے کچ شہر میں گجراتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا چاندی کے بڑے کاروباری میں شمار تھا۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ کچ اور ممبئی میں ناسازگار حالات ہونے کی وجہ سے والد پونہ منتقل ہونے کے بعد پونہ میں ہی مقیم ہوگئے۔ دیون ورما نے اسکولی تعلیم پونہ کے پنچ گنی سے حاصل کی اور نوروجی واڈیا کالج سے ڈگری حاصل کی۔
کالج میں اداکاری کا شوق
کالج کے زمانے سے ہی اداکاری کا شوق جاگ گیا۔ دیون ورما وکالت کرنے کی غرض سے پونہ سے ممبئی شہر آئے مگر بہت جلد وکالت کی تعلیم سے منہ موڑ لیا اور اداکاری کے شوق نے انھیں جاما گروپ آف تھیٹر سے منسلک کرادیا۔ اس دوران دیون ورما اداکاروں کی نقل کیا کرتے تھے۔
فلمی سفر کا آغاز
دیون ورما اپنے ایک شوز کے دوران مونو ایکٹ کر رہے تھے، اس شوز میں بالی ووڈ کے کئی مشہور ہدایتکار اور فلم ساز بھی موجود تھے، ان میں بی آر چوپڑا بھی تھے، وہ دیون ورما کے مزاحیہ اداکاری کے انداز سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے اپنی فلم "دھرم پتر” کے لئے سائن کیا، اس فلم سے ششی کپور نے بھی اپنا فلمی سفر شروع کیا تھا۔ 1961 کی فلم "دھرم پتر” سے دیون ورما کا فلمی سفر شروع ہوا۔
"دھرم پتر” کی ناکامی اور آگے کا سفر
فلم نمائش کے لئے جب سنیما گھروں میں آئی تو فلم کو کامیابی نہیں ملی۔ دیون ورما اس وقت تھیٹر میں بہت زیادہ مصروف تھے جب انھیں معلوم ہوا کہ "دھرم پتر” فلم ناکام رہی تو انھیں بہت افسوس ہوا۔ اسی دوران اس وقت کے مشہور فلم ساز اے وی ایم اسٹوڈیو مدراس کے مئیپن اپنے یہاں دیون ورما کو موقع دیا، جب 1963 کی فلم "گمراہ” میں دیون ورما نے اشوک کمار کے نوکر کا مزاحیہ کردار ادا کیا اور فلم نمائش کے لئے جب سنیما گھروں میں آئی تو دیون ورما کی بہت تعریف ہوئی۔
"گمراہ” اور "قوالی کی رات” کی کامیابی
اس فلم کے بعد ایک اور فلم میں موقع ملا اور وہ فلم تھی "قوالی کی رات”، دیون ورما کے مقابل تھیں ممتاز، فلم اوسط درجہ کامیابی حاصل کی اور ساتھ ہی دیون ورما نے بالی ووڈ میں کچھ حد تک اپنی شناخت بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
دیون ورما کے کامیاب سال
1964 اور 1966 دیون ورما کے لئے بہترین سال رہا، ان کی دونوں فلمیں "دیور” اور "انوپما” کامیاب رہیں اور دیون ورما نے بالی ووڈ میں اپنا مقام بنا لیا۔ اس کے بعد 1975 میں دیون ورما کو فلم "چوری میرا کام” نے شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا۔ اس فلم میں دیون ورما ایک منفرد سنجیدہ مزاحیہ کردار میں نظر آئے جس کی وجہ سے انھیں اس فلم کے لئے فلم فئیر بہترین مزاحیہ اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔
فلموں کی لائن اور مقبولیت
اس کے بعد تو فلموں کی لائن لگ گئی، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ 16 فلموں میں کام کر رہے تھے۔ جس کی وجہ، کئی لوگوں سے گہرا دوستانہ تھا اور اسی دوستانے کی وجہ سے دیون ورما پانچ دہائی تک بالی ووڈ میں کام کرتے رہے۔
دیون ورما کی شادی اور ذاتی زندگی
دیون ورما نے مزاحیہ اداکاری کے ساتھ فلمیں بھی بنائیں۔ ان کی پہلی فلم 1969 میں "یقین” دھرمیندر کے ساتھ رہی۔ نوین نشچل اور آشا پاریکھ کے ساتھ "نادان” بنائی۔ 1973 میں اشوک کمار کے ساتھ "بڑا کبوتر”، 1978 میں امیتابھ بچن کے ساتھ فلم "بے شرم” بنائی، اس فلم میں دیون ورما نے خود تین مزاحیہ کردار بخوبی ادا کئے۔
دیون ورما اور روپا گانگولی کی شادی

دیون ورما کی شادی اشوک کمار کی بیٹی روپا گانگولی سے ہوئی۔ اس کی وجہ فلم "گمراہ” کے وقت سے ہی دیون ورما کا اشوک کمار کے گھر آنا جانا تھا اور اس دوران روپا گانگولی سے عشق ہوگیا۔ جب بات اشوک کمار کے سامنے آئی تو وہ سوچ میں پڑ گئے کیا کریں، پہلے ہی ان کی ایک بیٹی کی شادی گجراتی گھرانے میں ہوئی ہے اور اب دوسری بیٹی بھی گجراتی گھرانے میں۔ اشوک کمار فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے اور دو سال کا عرصہ گزر گیا، کشور کمار بھی ان باتوں سے اچھی طرح واقف تھے اور انھیں دونوں کی شادی کے متعلق دخل دینا پڑا۔ اس میں کشور کمار کامیاب رہے۔ دیون ورما اور روپا گانگولی کی شادی طے ہوئی۔
دیون ورما کی کامیاب فلمیں
دیون ورما پانچ دہائی کے فلمی سفر میں 150 سے بھی زیادہ فلموں میں مزاحیہ کردار بخوبی ادا کئے۔ جن میں ان کی بہترین فلمیں "کھٹا میٹھا”، "گول مال”، "چوری میرا کام”، "انگور” رہیں۔ انھوں نے ٹیلی ویژن سیریل بھی کئے جن میں "ماما جی”، "زبان سنبھال کے” شامل ہیں۔
دیون ورما کی شہرت میں ہدایتکاروں کا کردار
دیون ورما کے فلمی سفر میں سب سے بڑا ہاتھ فلم ساز اور ہدایتکاروں کا رہا جن میں باسو چٹرجی، رشی کیش مکھرجی، شاعر اور ہدایتکار گلزار کا تھا، جس کی وجہ سے دیون ورما شہرت کی بلندی پر پہنچے۔ دیون ورما کی کچھ مشہور فلمیں "دیور”، "ملن”، "یقین”، "خاموشی”، "میرے اپنے”، "دھند”، "چوری میرا کام”، "چور کے گھر چور”، "کبھی کبھی”، "سلسلہ”، "بے مثال”، "بے شرم”، "دیدار یار”، "چمتکار”، "انداز اپنا اپنا”، "عشق”، "دل تو پاگل ہے” اور دیون ورما کی سب سے بڑی فلم "گلزار صاحب کی ہدایتکاری والی” "انگور” رہی۔ اس فلم میں دیون ورما نے سنجیو کمار کے سامنے معاون ہیرو کے طور پر کام کیا، ساتھ ہی بہترین مزاحیہ انداز بھی شامل رکھا جس کی وجہ سے انھیں فلم فئیر کا بہترین مزاحیہ اداکار ایوارڈ ملا۔
دیون ورما کی آخری فلم اور ان کی وراثت
دیون ورما کی آخری فلم "کلکتہ میل” رہی۔ دیون ورما کے فلمی سفر میں انھیں تین مرتبہ فلم فئیر کا ایوارڈ ملا جن میں 1976 "چوری میرا کام”، 1979 میں "چور کے گھر چور” اور 1983 میں فلم "انگور” کے لئے بھی بہترین مزاحیہ اداکار کا ایوارڈ ملا۔
دیون ورما کا کیریئر ختم کرنا
اپنے ایک انٹرویو میں دیون ورما نے بتایا کہ میرے فلمی سفر کی بہترین فلم "دیدار یار” رہی، جسے جیتندر صاحب نے بنایا تھا۔ فلم کو بڑی کامیابی تو نہیں ملی، ہاں مگر میرا کردار بہت بہترین تھا۔
فلموں سے دوری اور زندگی کا اختتام
اپنے پانچ دہائی کے فلمی سفر کو اچانک خیر باد کہا جس کی خاص وجہ اپنے انٹرویو میں بتایا کہ نئے نئے اداکاروں کا سلسلہ چل پڑا ہے، ان کے ساتھ میری کیمسٹری جم نہیں سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز شوٹنگ کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہاتھ میں سگریٹ لئے آئی اور چٹکی بجاتے ہوئے بولنے لگی "چلئے، صاحب نے آپ کو بلایا ہے”۔ اس بات کا گہرا اثر ان پر پڑا اور آہستہ آہستہ فلموں سے دوری اختیار کر لی اور بالی ووڈ کو الوداع کہا۔
شگر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کڈنی کام نہیں کر رہی تھی۔ زیر علاج کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے 2 دسمبر 2014 کو آچھی سانس لی اور اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ دیون ورما نے اپنی منفرد سنجیدہ مزاحیہ اداکاری اپنے مداحوں کے لئے چھوڑ گئے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


