ورلڈ اکنامک فورم کے صدر مستعفی | ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر بورگے برینڈے کا استعفیٰ
برینڈے کے ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے وکیل کے ذریعے آزادانہ جانچ مکمل
جنیوا، سوئٹزرلینڈ 26 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ورلڈ اکنامک فورم World Economic Forum کے صدر بورگے برینڈے Børge Brende نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کا نام امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں شامل ہونے کی خبر عام ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق سن 2017 میں فورم کے سربراہ بننے والے برینڈے پر الزام ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ تین کاروباری عشائیوں میں شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ دونوں کے درمیان پیغامات کے ذریعے رابطہ بھی رہا۔ تاہم برینڈے کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔
اپنے استعفیٰ کے اعلان کے دوران برینڈے نے کہا کہ گہرے غور و فکر کے بعد انہوں نے صدر کے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ برس کا عرصہ ان کے لیے نہایت اہم اور کامیاب رہا اور وہ اپنے رفقا اور معاونین کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کا کام بلا رکاوٹ جاری رہنا چاہیے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برینڈے کے ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے وکیل کے ذریعے آزادانہ جانچ مکمل کر لی گئی ہے۔ فورم کے شریک صدور نے واضح کیا کہ عبوری طور پر نئے سربراہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
عالمی اقتصادی فورم ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں عالمی اجلاس منعقد کرتا ہے، جس میں دنیا بھر سے سیاسی اور معاشی شخصیات شریک ہوتی ہیں۔
ایپسٹین فائلز دراصل لاکھوں دستاویزات پر مشتمل مجموعہ ہے، جس میں جیفری ایپسٹین Jeffrey Epstein کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات درج ہیں۔ ان دستاویزات میں تصاویر، ویڈیوز اور ای میلز کا جزوی طور پر منظر عام پر آنے والا مواد شامل ہے۔ ان میں متعدد عوامی اور سیاسی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کئی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔



