
سرکردہ کمپنیوں اور جنرک ادویات کا معیار یکساں، قیمتوں میں بڑا فرق
“مہنگی دوا بہتر نہیں، معیار یکساں مگر قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔”
حیدرآباد۔ 13 جنوری (اردودنیا.اِن/ایجنسیز)معتبر سروے اور سائنسی تحقیق میں اس بات کی توثیق ہوئی ہے کہ سرکردہ ادویات ساز کمپنیوں کی برانڈ ادویات اور عام استعمال کی جنرک ادویات کے معیار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے باوجود قیمتوں میں نمایاں فرق کی وجہ سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوچکا ہے کہ مہنگی برانڈ ادویات زیادہ مؤثر ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
عوامی شراکت داری سے کیے گئے سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام پردھان منتری جن اوشدی مراکز پر دستیاب جنرک ادویات بھی معیار کے اعتبار سے سرکردہ کمپنیوں کی ادویات کے برابر ہیں۔ اس تحقیق کے دوران مختلف لیبارٹریوں میں نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق نتائج سامنے آئے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ کے ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی نگرانی میں ہونے والے معائنوں کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنرک اور برانڈ ادویات کے معیار میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔ اسی طرح کیرالا کے ادارہ ایتھکس اینڈ سائنس ان ہیلت کیئر نے عام استعمال کی 22 ادویات کے 131 نمونے حاصل کرکے سرکردہ لیبارٹریوں میں جانچ کروائی۔
سروے کے مطابق جو جنرک ادویات دو سے تین روپے میں دستیاب ہیں، وہی ادویات اسی فارمولے کے تحت تیار کردہ برانڈ شکل میں بارہ سے پندرہ روپے میں فروخت کی جارہی ہیں، جبکہ معیار دونوں کا یکساں ہے۔ اس قیمت کے فرق کا براہ راست بوجھ مریضوں پر پڑتا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جنرک ادویات کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ڈاکٹرس علاج کے دوران جنرک ادویات تجویز کریں تو مریضوں کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ تاہم عملی طور پر اکثر ڈاکٹرس سرکردہ کمپنیوں کی ادویات پر اصرار کرتے ہیں، جس سے علاج مہنگا ہو جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جن اوشدی مراکز پر فراہم کی جانے والی ادویات کے معیار کی بھی جانچ کی گئی، اور لیبارٹری رپورٹ میں انہیں بھی سرکردہ کمپنیوں کی ادویات کے مماثل قرار دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جنرک ادویات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور عوام میں آگاہی بڑھے تو صحت کے شعبے میں مثبت اور دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔



