بین الاقوامی خبریںسرورق

روسی صدر پوتین کی دعوت پر’برکس‘ قیادت بھی غزہ پر ہم آواز

فلسطینی ریاست کیلئے امن کے سنجیدہ عمل کا مطالبہ کرتے ہیں: بن سلمان

برکس غزہ کے تنازعے کے سیاسی حل تک پہنچنے میں مدد کر سکتا ہے:روسی صدر

لندن، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ‘برکس’ ممالک کے رہنماوں کے سامنے غزہ میں جاری بحران کا معاملہ اٹھا دیا۔ اور فوری جنگ بندی کے ذریعے غزہ میں جاری انسانی تباہی رکوانے پر زور دیا۔غزہ میں اب تک 13000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 5500 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم اسرائیلی بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری میں کوئی کمی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل دنیا بھر سے سامنے آنے والے جنگ بندی کے مطالبے کو بھی تسلیم نہیں کر رہا ہے۔ولادی میر پوتین نے ‘برکس لیڈر شپ’ کے ساتھ ویڈیو لنک پر بات کی اور مشرق وسطی میں پیدا اس سنگین تر صورت حال کی جانب توجہ مبذول کرائی۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا روس سمجھتا ہے کہ دنیا میں برکس ممالک کی آواز سنی جانی چاہیے،تاکہ اسرائیل اور اس کی حمایت میں کھڑے ملکوں کو باور کرایا جا سکے کہ جنگ بندی سے غزہ میں انسانی جانوں کا مزید نقصان روکا جا سکتا ہے۔


اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کی جائے، سعودی ولی ٔعہد کا برکس اجلاس سے خطاب

Saudi crown prince Mohammed bin Salman
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز

ریاض ، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے غزہ پٹی کے لیے فوری طور پر امدادی سامان بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تمام ممالک اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنا بند کر دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز برکس گروپ کے ورچوئل سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ’1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ خبر کے مطابق سعودی ولی عہد نے منگل کو آن لائن بریکس سربراہ کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے جامع اور ٹھوس امن عمل شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ورچول کانفرنس سے خطاب میں سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری کانفرنس ایسے وقت میں ہورہی ہے جب غزہ بہت مشکل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر غزہ میں اسرائیلی حملوں کو پوری قوت سے مسترد کرتے ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے غزہ پٹی کے لیے فوری طورپرامدادی سامان بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس امر پرزوردیا کہ’تمام ممالک اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنا بند کردیں۔‘سعودی ولی عہد نے سخت لہجے میں کہا کہ ’غزہ میں شہریوں، بے قصور انسانوں، صحت اداروں اورعبادت گھروں میں وحشیانہ جرائم ہورہے ہیں۔

موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسانی المیے کو بند کرانے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی جائے‘۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’غزہ میں بدترین انسانی حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوگی۔ غزہ میں ہنگامی بنیادوں پرامدادی کارروائیوں کو ممکن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ محفوظ طریقے سے امدادی مہم جاری رکھی جاسکے‘۔ سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’سعودی عرب کا دوٹوک اور غیر متزلزل موقف یہ ہے کہ فلسطین میں امن و استحکام کے قیام کا واحد راستہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے دو ریاستی حل اور 1967 کی سرحدوں کے دائرے میں خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔


برکس رہنماؤں کا غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور، جنوبی افریقہ کی ’نسل کشی‘ کی مذمت

لندن، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا نے کہا کہ’اسرائیل کی جانب سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جنگی جرم ہے۔ غزہ کے شہریوں کو جان بوجھ کر ادویات، ایندھن، خوراک اور پانی سے محروم کرنا نسل کشی کے مترادف ہے۔وہ منگل کے روز برکس گروپ آف نیشنز کے رہنماؤں کے روز ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اجلاس کے چیئرمین جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر فلسطینی علاقے میں جنگی جرائم اور ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا۔جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس کے ورچوئل اجلاس کا انعقاد ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے تمام فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی اور دشمنی ختم کرنی چاہیے۔ شہریوں کو نشانہ بنانے والے تمام تشدد اور حملوں کو روکنا چاہیے اور شہری قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے تاکہ مزید جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔شی جن پنگ نے کہا کہ ’مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن و سلامتی ممکن نہیں ہے۔برکس کے رہنماؤں اور نمائندوں نے کہا کہ امن کو یقینی بنانے کے لئے فلسطینی اسرائیل تنازع کے طویل مدتی سفارتی حل کی ضرورت ہے اور شی نے اس مقصد کے حصول کے لئے ’بین الاقوامی امن کانفرنس‘ کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر سے مسلسل بمباری اور زمینی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں میں اب تک 13 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔بریکس ورچول سربراہ کانفرنس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، مصر، روس، برازیل، انڈیا، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن، ایتھوپیا اور ایران شریک ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button