ابھرتی معیشتوں کے گروپ برکس کی ترکیہ کو پارٹنر ملک کا درجہ دینے کی پیشکش
انقرہ نے مشرق اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوششوں کو جاری رکھا ہے
ترکیہ 15نومبر ( ایجنسیز) ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے کہا ہے کہ انکے ملک کو برکس گروپ کی جانب سے پارٹنر ملک کا درجہ دینے کی پیشکش کی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ انقرہ نے مشرق اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوششوں کو جاری رکھا ہے۔نیٹو کے رکن ترکیہ نے حالیہ مہینوں میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا، ایران، مصر اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ابھرتی ہوئی معیشتوں کے BRICS گروپ میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کیاتھا۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ ماہ کازان میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی میزبانی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کی، اس وقت انقرہ نے کہا کہ اس نے گروپ کا رکن بننے کے لیے باضابطہ اقدامات کیے ہیں۔
بولات نے بدھ کے روز نجی نشریاتی ادارے TVNet کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ”جہاں تک (BRICS) کی رکنیت کے حوالے سے ترکی کا تعلق ہے، انہوں نے ترکی کو پارٹنر کے درجے کی رکنیت کی پیش کش کی ہے۔ایردوان نے کہا ہے کہ انقرہ برکس گروپ کو مغرب سے اپنے تعلقات اور نیٹو کی رکنیت کے متبادل کے بجائے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ترک حکام اس کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ برکس کی ممکنہ رکنیت سے مغربی فوجی اتحاد میں ترکی کی ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔23 اکتوبر کو برکس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، مکمل رکنیت کے علاوہ، برکس کے اراکین نے کازان میں ایک ”پارٹنر ملک” کی کیٹیگری متعارف کروائی تھی۔
ایردوان کی حکمراں اے کے پارٹی کے ایک عہدیدار نے رواں ماہ رائٹرز کو بتایا کہ جب کہ اس تجویز پر کازان میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا، پارٹنر ملک کا درجہ ترکی کے رکنیت کے مطالبات سے کم ہوگا۔اسلام آباد برکس فورم میں رکنیت کا بھی خواہاں ہے۔گزشتہ کچھ دہائیوں میں ابھرنے والی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اور برکس تنظیمیں چین، بھارت اور روس سمیت دنیا کی چالیس فیصد سے زیادہ آبادی اور متعدد بڑی معیشتوں پر مشتمل ہیں جو رکن ملکوں کے مطابق ممکنہ طور پر امن اور سلامتی کے حصول اور تجارت کے فروغ کی جانب اہم پلیٹ فارمز کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔



