گوشہ خواتین و اطفال

سیدہ حضرت خدیجہ ؓکی مختصرحالات زندگی

حضرت خدیجہؓ کی شخصیت اور کردار

شیخ عائشہ امتیازعلی  متعلمہ ! انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ

حضرت خدیجہؓ، جو ام المومنین کے لقب سے مشہور ہیں، حضور اکرمﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپؓ نے بعثت سے پہلے نبی کریمﷺ کے ساتھ نکاح کیا اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ آپؓ نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں خرچ کی اور اپنی عقلمندی، شرافت اور دانائی کے باعث عرب کی ایک عظیم خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ آپ کی مادی دولت سے زیادہ اہم آپ کی روحانی اور اخلاقی عظمت تھی۔

نکاح اور قربانی

حضرت خدیجہؓ نے اشراف قریش کے رشتے مسترد کرکے نبی کریمﷺ کو اپنا شریک حیات بنایا۔ آپؓ نے سب سے پہلے نبی اکرمﷺ کی نبوت کی تصدیق کی اور اسلام قبول کیا۔ اپنی دولت اور وسائل کو اسلام کے فروغ میں خرچ کیا اور ہر مشکل وقت میں نبی اکرمﷺ کا ساتھ دیا۔

وفات

حضرت خدیجہؓ نے ہجرت سے تین سال قبل 65 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ نبی کریمﷺ نے آپؓ کو اپنی چادر میں کفن دیا اور مکہ کے جنت المعلیٰ میں سپرد خاک کیا۔ نبی کریمﷺ ہمیشہ حضرت خدیجہؓ کا ذکر محبت اور عقیدت سے کرتے تھے۔

حضرت خدیجہؓ کی شخصیت اور کردار

حضرت خدیجہؓ نہایت پاکدامن، سخی، دور اندیش اور صبر و استقامت کی پیکر تھیں۔ آپؓ کا شمار جاہلیت کے دور میں بھی بہترین خواتین میں ہوتا تھا۔ آپؓ کو "طاہرہ” کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور غرباء و مساکین کی مدد کو اپنا وطیرہ بنائے رکھا۔ آپؓ نبی اکرمﷺ کی سب سے بڑی حامی تھیں اور آپؓ نے ہمیشہ دین اسلام کی خدمت کی۔

حضرت خدیجہؓ کی تجارت اور کامیابی

آپؓ ایک کامیاب تاجرہ تھیں اور آپ کی تجارت شام اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ آپؓ نے نبی اکرمﷺ کی دیانت داری اور سچائی کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنے تجارتی قافلے کا ذمہ دار بنایا۔ آپؓ کو اپنے زمانے میں "ملکہ عرب” بھی کہا جاتا تھا، اور آپ نے ہمیشہ ایمانداری اور انصاف کے اصولوں پر تجارت کی۔

نبی اکرمﷺ کی حضرت خدیجہؓ سے محبت

نبی اکرمﷺ ہمیشہ حضرت خدیجہؓ کا ذکر خیر فرماتے اور انہیں بے مثال خاتون قرار دیتے۔ آپؓ کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:

"کائنات کی بہترین خواتین مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمدﷺ ہیں۔” (بخاری شریف)

حضرت خدیجہؓ کی زندگی صبر، قربانی، وفاداری اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپؓ کی شخصیت اسلام کی خواتین کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ آج بھی ان کی خدمات اور قربانیوں کو عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button