قومی خبریں

برج بھوشن جنسی ہراسانی کیس:برج بھوشن کی بریت کے خلاف چار خواتین پہلوانوں کا سیشن کورٹ سے رجوع

جنسی ہراسانی کیس میں برج بھوشن کی بریت چیلنج

نئی دہلی، 25 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): چار خواتین پہلوانوں نے سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کی جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بریت کے خلاف جمعہ کو دہلی کی سیشن عدالت سے رجوع کرلیا۔ درخواست میں سابق WFI اسسٹنٹ سیکریٹری ونود تومر کو مجرمانہ دھمکی کے الزام سے بری کیے جانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ معاملے کی سماعت خصوصی جج ڈگ ونئے سنگھ کی عدالت میں ہفتہ کو ہونے کا امکان ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 3 اگست کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے سنایا گیا بریت کا فیصلہ قانونی طور پر قابل برقرار نہیں اور دستیاب شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے ماتحت عدالت کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی استدعا کی ہے۔

دہلی کی عدالت نے 3 اگست کو چھ خواتین پہلوانوں کی جانب سے دائر مقدمے میں برج بھوشن شرن سنگھ کو تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔ اسی مقدمے میں ونود تومر کو بھی مجرمانہ دھمکی کے الزام سے بری کیا گیا تھا۔ مقدمے میں چھ شکایت کنندگان میں ورلڈ چیمپئن شپ کی تمغہ یافتہ پہلوان وینیش پھوگاٹ بھی شامل تھیں۔

بریت کے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے گواہیوں میں موجود بعض تضادات اور استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ شواہد کی کمی کو اہم قرار دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ پانچ شکایت کنندگان سے متعلق الزامات پر مقدمہ آگے بڑھا تھا، تاہم ان میں سے دو نے استغاثہ کے مؤقف کی حمایت نہیں کی۔

عدالت کے مطابق بعض گواہوں نے مبینہ واقعات کے مقام، ملک اور سال سے متعلق مختلف تفصیلات بیان کیں۔ فیصلے میں ان تضادات کو استغاثہ کے مقدمے کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعض شکایت کنندگان نے طویل عرصے تک الزامات سامنے نہیں رکھے اور بعد میں دی گئی گواہی میں مختلف تفصیلات سامنے آئیں۔

مقدمے میں دہلی پولیس نے برج بھوشن کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 354، 354A، 354D اور 506(1) کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی، جبکہ ونود تومر کے خلاف دفعہ 506(1) کے تحت الزام عائد کیا گیا تھا۔ مئی 2024 میں عدالت نے برج بھوشن کے خلاف پانچ شکایت کنندگان سے متعلق الزامات طے کیے تھے، جبکہ ایک شکایت کنندہ سے متعلق انہیں ڈسچارج کردیا گیا تھا۔

اب چار خواتین پہلوانوں کی جانب سے دائر درخواست میں ماتحت عدالت کے فیصلے پر قانونی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصلے میں شواہد کا جائزہ لیتے وقت متاثرہ خواتین کے حالات اور ان کے بیانات کے قانونی پہلوؤں کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔

سیشن عدالت میں درخواست کی سماعت کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ماتحت عدالت کے بریت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر عدالت کیا قانونی کارروائی اختیار کرتی ہے۔ اس مرحلے پر بریت کا فیصلہ برقرار ہے، جبکہ درخواست گزار خواتین نے اسے چیلنج کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button