بی آر ایس میں صرف کے سی آر ہی لیڈر ہیں، پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرنے کی سازش جاری ہے: کویتا
پارٹی میں خفیہ ایجنٹ اور بی جے پی میں ضم کرنے کی سازش
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بی آر ایس کی ایم ایل سی کویتا نے آج ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کی انہوں نے سخت مخالفت کی تھی۔ پارٹی قائدین نے انہیں نظام آباد لوک سبھا انتخابات میں شکست دی ہے۔ وہ ’’پیٹھ میں خنجر گھونپنے‘‘ والی سیاست پر یقین نہیں رکھتیں۔ کے سی آر ہی پارٹی کے سربراہ ہیں اور وہ بی آر ایس میں شامل ہیں۔ مجھے ’’ریونت ریڈی کے مخبر‘‘ کہنے والے کیا ’’بی جے پی کے مخبر تو نہیں؟‘‘۔
کویتا نے آج اپنی قیام گاہ پر میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے راست اور بالواسطہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کویتا نے کہا کہ وہ اپنے ڈیڈی کو ایک نہیں 100 مکتوبات روانہ کریں گی، اس سے کس کو تکلیف ہورہی ہے۔ گھر کی بیٹی کے خلاف پیڈ آرٹسٹوں سے مہم چلانے سے کس کو فائدہ ہوگا، یہ بات سمجھ جانتے ہیں۔ مجھے ریونت ریڈی کے مخبر کہنے والے کیوں بی جے پی کے ہاسپٹل کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے؟ کویتا نے کہا کہ وہ جب شراب اسکام میں جیل میں تھی، تبھی ایم ایل سی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پارٹی صدر کے سی آر نے مستعفی ہونے سے روک دیا۔
جب میں جیل میں تھی، پارٹی قائدین بی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کرنے کی سازش کررہے تھے۔ جب یہ تجویز میرے سامنے آئی تو میں نے کھل کر اس کی مخالفت کی اور کہا کہ مَیں 6 ماہ نہیں بلکہ ایک سال جیل میں رہنے کیلئے تیار ہوں لیکن بی آر ایس کو ہرگز بی جے پی میں ضم ہونے نہیں دوں گی۔
بی آر ایس کی خاتون لیڈر نے کہا کہ کے سی آر ہی پارٹی کی قیادت کریں گے اور ان کی وجہ سے ہی ورنگل کا سلور جوبلی جلسہ عام کامیاب ہوا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پارٹی صدر کو نوٹس جاری کی گئی، لیکن پارٹی کی جانب سے اس کے خلاف عوامی مظاہرہ کرنے کے بجائے صرف ٹوئٹ تک محدود رہ گئے، جبکہ میرے (کویتا) خلاف سوشیل میڈیا پر مہم چلانے کیلئے اپنے حامیوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ میرے خلاف جس طاقت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، وہی طاقت بی جے پی اور کانگریس کے خلاف استعمال کی جاتی تو پارٹی مزید طاقتور ہوتی ہے۔ پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کو وہ ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔
جب صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نئی پارٹی تشکیل دے رہی ہیں یا پھر کانگریس میں شامل ہوجائیں گی؟ کویتا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نئی پارٹی تشکیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بی آر ایس موجود ہے، اس کو طاقتور بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائیاں ہیں، وہ بالکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، وہ کانگریس میں ہرگز شامل نہیں ہوں گی، کیونکہ کانگریس ڈوبتی ہوئی کشتی ہے جبکہ بی آر ایس کا روشن مستقبل ہے۔
کویتا نے مزید کہا کہ مجھے بی آر ایس سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ میں، کے سی آر کی قیادت پر کامل یقین رکھتی ہوں اور ان کی ہی قیادت میں کام کروں گی۔ وہ پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ بی آر ایس ایم ایل سی نے کہا کہ میرے مکتوب کو منظر عام پر لانے والوں کے خلاف فوراً کارروائی ہونی چاہئے۔ وہ تلنگانہ کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے چکی ہیں، جب مَیں حاملہ تھی، اس وقت بھی میں نے تلنگانہ کیلئے سرگرم رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس سے زیادہ فی الوقت ’’تلنگانہ جاگروتی‘‘ زیادہ کام کررہی ہے۔ کویتا نے کہا کہ مجھے میرے والد اور میرے خاندان سے دُور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
ایم ایل سی کویتا نے سوال کیا، "میری اخلاقیات پر سوال اٹھانے والے خود کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ گھر کی بیٹی کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنا کیا عزت داری ہے؟”
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ "لیکّر کیس” کے دوران وہ استعفیٰ دینے کی تیار تھیں، مگر کے سی آر نے انہیں روک لیا تھا۔ کویتا نے پارٹی کے اندر اپنے خلاف سازش کا بھی الزام لگایا، جس کی وجہ سے انھیں ایم پی الیکشن میں شکست ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اسی علاقے میں انہیں ایم ایل سی کا پروٹوکول دیا گیا، لیکن جب وہ خط لیک کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتی ہیں، تو لوگ ان پر غیر ضروری تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی پر تنقید ہونی چاہیے، مگر الٹا ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں خفیہ ایجنٹوں کے متعلق جو باتیں ہو رہی ہیں، ان کے ذمہ داروں کو کے سی آر کو نوٹس دینے کے بعد کارروائی کرنی چاہیے۔



