سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

دانت پیسنے کے نقصانات: خطرناک عادت جو دانتوں اور دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے

امۃ المعیز فرزانہ افضل بنگلور

🩺 دانت پیسنے کی عادت کیا ہے؟

دانت پیسنے کا عارضہ کسی کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ نیند میں دانت پیسنے کی عادت، جسے طبی اصطلاح میں Bruxism (بروکسزم) کہا جاتا ہے، اس وقت دیکھی جاتی ہے جب کوئی شخص دانتوں کو سختی سے بند کرتا ہے یا ایک دوسرے پر رگڑتا ہے۔
یہ عمل عام طور پر لاشعوری طور پر انجام دیا جاتا ہے — یعنی فرد کو علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ یہ صرف نیند میں نہیں بلکہ جاگنے کی حالت میں بھی ہوسکتا ہے۔


😬 دانت پیسنے کی عام وجوہات

بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، غصے یا تشویش کی حالت میں دانت پیستے ہیں۔
یہ عادت خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کوئی شخص کسی چیز پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یا دباؤ کی کیفیت میں ہوتا ہے۔
اگرچہ اس کی کوئی واضح طبی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی، لیکن کچھ عوامل ہیں جو اس عادت کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے کہ:

  • شدید ذہنی دباؤ یا اسٹریس

  • زیادہ سگریٹ نوشی یا شراب نوشی

  • کیفین والے مشروبات (چائے، کافی) کا زیادہ استعمال

  • نیند کی بیماریاں جیسے Sleep Apnea (سلیپ اپنیما)

  • بعض دواؤں کا طویل استعمال

  • بچوں میں آنتوں کے کیڑے


⚠️ دانت پیسنے کی علامات

اگر کسی میں دانت پیسنے کی عادت زیادہ شدت سے پائی جائے، تو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:

  • صبح کے وقت سردرد یا چہرے کا درد

  • جبڑوں کے پٹھوں میں درد یا اکڑن

  • کان میں درد یا گھنٹی کی آواز سنائی دینا

  • کھانے کے دوران درد محسوس ہونا

  • منہ کھولنے یا بند کرنے میں دشواری

جاگنے کی حالت میں دانت پیسنے والے افراد کو عام طور پر کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، بشرطیکہ وہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب ہوں۔


😴 نیند میں دانت پیسنے کے نقصانات

نیند کے دوران دانت پیسنا زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہا ہے۔
یہ عادت درج ذیل پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے:

  • دانتوں کا گھس جانا یا ٹوٹنا

  • دانتوں میں دراڑ یا ڈھیلا پن

  • نیند میں خلل یا بے خوابی

  • جبڑوں کے جوڑ (Temporomandibular Joint) میں درد

  • چہرے کے مختلف حصوں میں درد

  • سر اور گردن میں مستقل درد

یہ جوڑ (TMJ) وہ حصہ ہے جو جبڑے کو کھوپڑی سے جوڑتا ہے، اور دانت پیسنے کی عادت اس جوڑ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔


🔬 بروکسزم کی ممکنہ وجوہات

ماہرین کے مطابق، دانت پیسنے کی وجوہات درج ذیل عوامل سے جڑی ہوسکتی ہیں:

  • ذہنی دباؤ اور تناؤ

  • نیند کی خراب کیفیت

  • جینیاتی عوامل

  • نارمل دانتوں کی ساخت میں خرابی

  • نیند کے دوران خراٹے لینا یا منہ کھول کر سونا

بعض اوقات بچوں میں یہ عادت آنتوں کے کیڑوں کی وجہ سے بھی دیکھی جاتی ہے۔


🧠 دانت پیسنے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں

اگر بروکسزم کا علاج نہ کیا جائے تو درج ذیل خطرات لاحق ہوسکتے ہیں:

  • نیند میں خلل اور دن بھر تھکن

  • دانتوں کی کمزوری یا ٹوٹ پھوٹ

  • جبڑوں کا عدم توازن

  • عارضۂ مفصل صدغی فکی (TMJ Disorder)

  • مستقل سر درد یا چہرے کا درد


💊 دانت پیسنے کا علاج

اگر مسئلہ کبھی کبھار پیش آتا ہے یا تکلیف شدید نوعیت کی نہیں، تو عموماً باقاعدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔
لیکن اگر بروکسزم زیادہ سنگین ہو تو درج ذیل علاج مفید ثابت ہوسکتے ہیں:

🦷 ماؤتھ گارڈ

ڈینٹسٹ آپ کے دانتوں کی ساخت کے مطابق ایک خصوصی ماؤتھ گارڈ تیار کر سکتے ہیں جو دانتوں کو رگڑ سے محفوظ رکھتا ہے اور جبڑے کے دباؤ کو کم کرتا ہے۔

💉 بوٹاکس انجکشن

زیادہ شدید کیسز میں Botox کے انجکشن تجویز کیے جاتے ہیں جو وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں، تاہم انہیں بار بار لگوانا پڑتا ہے۔

🌿 یونانی علاج

بروکسزم کے علاج میں یونانی ادویات بھی مؤثر مانی جاتی ہیں، کیونکہ وہ جسمانی توازن بحال کرنے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔


✅ دانت پیسنے سے بچاؤ کے مفید طریقے

  • نیند سے پہلے کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں

  • ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مراقبہ، یوگا یا گہری سانسیں لیں

  • نیند کا باقاعدہ وقت مقرر کریں

  • دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کروائیں

  • ماؤتھ گارڈ یا اسپلنٹ کا استعمال کریں


    🌍 تازہ ترین صحت کی خبریں، اپڈیٹس اور معلومات حاصل کریں!
    🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ: https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

متعلقہ خبریں

Back to top button