بین ریاستی خبریں
یوپی میں بی ایس پی، کانگریس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب پنجاب میں بھی کانگریس کا اقتدار ختم
لکھنو،10؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بارے میں بات کریں تو اس بار سارا منظر بی جے پی اور ایس پی کے اتحاد کے درمیان ہی محدود نظر آیا ۔ بی ایس پی اور کانگریس کا برا حال رہا ۔
بی جے پی کو یوپی میں ایک بار پھر 40 فیصد سے زیادہ ووٹ مل رہے ہیں۔ بی جے پی نے اترپردیش میں بڑی اکثریت حاصل کرلی ہے ،مایاوتی کی قیادت والی بی ایس پی کا بھی بُرا حاصل رہا ہے ،کانگریس نے 2017 کے اسمبلی انتخابات گٹھ بندھن کے ساتھ لڑا تھا ۔
اسے 7 سیٹیں ملی تھیں اور تقریباً 6.50 فیصد ووٹ ملے تھے۔ وہیں ایس پی کو 28.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ 47 سیٹیں ملیں ۔ بی ایس پی نے گزشتہ انتخابات میں 20 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے اور 19 سیٹیں جیتی تھیں۔
پرینکا گاندھی نے کسانوں کی تحریک کے دوران یوپی کے یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکز کی مودی حکومت کے خلاف بڑا محاذ کھولا تھا۔ وہ خود بھی لکھیم پور کھیری پہنچی تھیں جہاں کسانوں کو کچلنے کے واقعہ کے بعد متاثرین سے ملاقات کی تھی اور تقریباً دو دن حراست میں بھی گزارے تھے۔
پنجاب میں کانگریس کا اقتدار ختم ہوگیا ہے ، گزشتہ بار کانگریس نے کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت میں پنجاب میں الیکشن لڑا تھا لیکن انہیں انتخابات سے چار ماہ قبل ہی بے دخل کردیا گیا ۔
کانگریس نے دلت چہرے چرنجیت سنگھ چنی کو وزیراعلیٰ بنانے کے ساتھ ریاستی صدر کی کمان نوجوت سدھو کو سونپی تھی۔ تاہم اس کے باوجود انتخابات میں کانگریس کی گروپ بندی صاف نظر آئی۔
چنی کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنانے کے بعدسدھو نے اتنی سرگرمی سے انتخابی مہم نہیں کی ۔ وہ کئی مسائل پر اپنی ہی پارٹی کو گھیرے ہوئے نظر آئے۔



