
تلنگانہ میں بی ٹیک فیسوں میں بھاری کمی، معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا
بی ٹیک فیسوں میں بڑی کمی نے تعلیمی اداروں میں بے چینی پیدا کردی
حیدرآباد 18 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ میں بی ٹیک کورسوں کی فیسوں میں حکومت کی جانب سے بھاری کمی نے نجی انجینئرنگ کالجوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ الزام لگایا جارہا ہے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کو کمزور کرنے کی کوشش کے تحت کانگریس حکومت نے پہلے سے نافذ فیسوں میں بھی کمی کردی ہے۔ جن کالجوں کی فیس گھٹائی گئی ہے ان میں اکثریت ایسے اداروں کی ہے جو بی آر ایس اراکین اسمبلی سے منسلک بتائے جارہے ہیں۔
مجموعی طور پر 19 کالجوں کی فیس کم کی گئی ہے جن میں تقریباً 15 ادارے بی آر ایس قائدین سے وابستہ ہیں۔ ان میں میڈچل کے رکن اسمبلی و سابق وزیر چامکورہ ملا ریڈی، ملکاجگیری کے رکن اسمبلی مری راج شیکھر ریڈی اور جنگاؤں کے رکن اسمبلی ڈاکٹر پلہ راجیشور ریڈی کے تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ انوراگ تعلیمی اداروں کی فیس میں 35 ہزار 100 روپے تک کمی کی گئی جبکہ نلہ ملا ریڈی کالج کی ٹیوشن فیس میں 45 ہزار روپے اور گرو نانک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی فیس میں 43 ہزار روپے کم کی گئی۔
فیسوں کے تعین میں تاخیر پر بعض کالج انتظامیہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے کیونکہ تعلیمی سال اختتام کے قریب پہنچنے کے باوجود حکومت نے فیسوں کو حتمی شکل نہیں دی۔ یہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ریاست میں کل 157 نجی انجینئرنگ کالج موجود ہیں۔ 2025 تا 2028 تعلیمی سال کے لیے فیس میں نظرثانی کی رپورٹ تلنگانہ ایڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی نے حکومت کو پیش کی ہے۔ پانچ کالجوں نے فیس نظرثانی کی تجاویز جمع نہیں کرائیں جس سے ان کے بند ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 63 کالجوں میں فیس بڑھائی گئی جبکہ 70 کالجوں میں پرانی فیس برقرار رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب کانگریس قائدین سے وابستہ کالجوں میں فیس بڑھائے جانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ بعض اداروں میں 62 ہزار روپے تک اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ جی نارائنمّا کالج، واسوی کالج، گوک راجو رنگا راجو کالج، شری دیوی خواتین انجینئرنگ کالج، کیشو میموریل اور وی این آر وجنان جیوتی جیسے اداروں میں نمایاں اضافہ کی سفارش کی گئی ہے۔
فیس میں کمی اور اضافہ کے اس فیصلے نے تعلیمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور طلبہ و سرپرستوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی صورت حال عدالت کی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔



