سرورققومی خبریں

Budget 2023: اقلیتی وزارت کے بجٹ پر چلی مودی سرکار کی قینچی، مختص بجٹ میں 38 فیصد کی تخفیف

مالی سال 2023-24 کے لیے مختص 3097.60 کروڑ روپے میں سے 2335 کروڑ روپے مرکزی حکومت کی اسکیموں یا منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے

نئی دہلی ، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس اور دیگر حزب اختلاف بجٹ کو انتخابی میدان کے پچ تیار کرنے والا بتایا ہے ، اس کی کچھ جھلک اقلیتی وزارت کے مختص بجٹ پر مودی سرکار کی چلنے والی قینچی سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بجٹ آئندہ عام انتخابات کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ نتیجتاً2023-24 کے لیے پیش کیے گئے بجٹ میں وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال کے لیے اقلیتی امور کی وزارت کے لیے پچھلے سال کے مقابلے 38 فیصد کم بجٹ کا انتظام کیا ہے۔اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ مالی سال 2023-24 کے لیے 3097.60 کروڑ روپے کر دیا گیا،جو کہ مالی سال 2022-23 کے پیش کردہ بجٹ میں 5020.50 کروڑ روپے تھا۔ یعنی آنے والے مالی سال کے لیے 38.30 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

2022-23 میں اقلیتوں کی وزارت کے لیے 5020 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن نظر ثانی شدہ تخمینہ کے مطابق صرف 2612.66 کروڑ روپے ہی خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ یعنی رواں مالی سال میں اقلیتوں کی وزارت کے لیے مختص بجٹ سے صرف 48 فیصد کم رقم خرچ ہونے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ مالی سال 2021-22 میں اقلیتوں کی وزارت نے کل 4323.63 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ یعنی مالی سال 2023-24 کے لیے مالی سال 2021-22 میں خرچ کی گئی رقم سے 29 فیصد کم رقم مختص کی گئی ہے۔

مالی سال 2023-24 کے لیے مختص 3097.60 کروڑ روپے میں سے 2335 کروڑ روپے مرکزی حکومت کی اسکیموں یا منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ مرکزی حکومت اسپانسر اسکیم کے تحت 610 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ مرکزی حکومت دیگر اشیا پر 149 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔دراصل 2006 میں یو پی اے حکومت نے اقلیتی وزارت بنائی تھی۔ 2006 سے 2013 تک اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ 144 کروڑ روپے سے بڑھ کر 3531 کروڑ روپے ہو گیا۔ لیکن مودی کی قیادت میں بی جے پی کے مرکز پر مسلط ہونے کے بعد سے اس میں زوال کا عمل شروع ہو گیا۔ 2013-14 سے 2022-23 کے درمیان اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ 3531 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5020 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ لیکن 2022-23 میں حکومت صرف 2612.66 کروڑ روپے خرچ کرنے کے قابل ہے۔ خیال رہے کہ بی جے پی کو مسلم مخالف سرکار ہونے کا الزام لگایا جاتاہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button