Budget 2025 :سالانہ 12 لاکھ کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں
جانیں کیا ہوگا مہنگا کیا ہوگا سستا: موبائل فون،ٹی وی اور الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی سستی
مرکزی سرکار کا بجٹ پیش مڈل کلاس کو تاریخی تحفہ دینے کا دعویٰ،
نئی دہلی ، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکزی وزیرخزانہ نے عام بجٹ میں خاص اعلان کرتے ہوئے ٹیکس کے معاملے میں مڈل کلاس کو بڑی راحت دی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب 12 لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تبدیلی نئے ٹیکس نظام کے تحت کی گئی ہے۔ اس سے پہلے 7 لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا تھا۔ اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن صرف 75,000 روپے رکھی گئی ہے۔اب 24 لاکھ روپے کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس لگے گا۔ 75 ہزار روپے تک اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن پر چھوٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ 15-20 لاکھ روپے کی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس ہوگا۔
8 سے 12 لاکھ روپے کی آمدنی پر 10 فیصد انکم ٹیکس ہوگا۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے اس بڑے اعلان کے بعد متوسط طبقے کو بڑی راحت ملی ہے۔ اگر کوئی شخص 12 لاکھ روپے سالانہ تک کماتا ہے تو اسے ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر یہ ایک روپیہ بھی 12 لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔سال1997 میں اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے انکم ٹیکس کی شرحوں میں اہم تبدیلیاں کیں تھیں۔ اس سال 5 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 40 فیصد ٹیکس لگایا گیا جو اس وقت سب سے زیادہ تھا۔مالی سال 2009-10 میں حکومت نے پرسنل انکم ٹیکس پر عائد سرچارج کو ختم کر دیا۔
تاہم، اس کے بعد 2010-11 میں، 10 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 10فیصد کا سرچارج لگایا گیا۔سال2014 میں نریندر مودی حکومت نے ایک نیا ٹیکس نظام متعارف کرایا۔اس سال انکم ٹیکس سلیب میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔ ڈھائی لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں تھا، لیکن ڈھائی لاکھ روپے سے پانچ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر دس فیصد ٹیکس اور پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی آمدنی پر بیس فیصد ٹیکس لگایا جاتا تھا۔
سال2018 میں حکومت نے صحت اور تعلیم کے سیس کو 4 فیصد تک بڑھا دیا۔ اس سے زیادہ آمدنی والے گروپ پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔ اس کے علاوہ اس سال سے نئے ٹیکس سلیب بھی لاگو کیے گئے ہیں۔وبائی امراض کے دوران، حکومت نے امدادی اقدامات کے حصے کے طور پر کچھ ٹیکسوں کو موخر کیا، لیکن اس کے باوجود، زیادہ آمدنی والے گروپوں کے لیے ٹیکس کی شرحیں مستحکم رہیں۔اس سال بھی حکومت نے ٹیکس کی شرح مستحکم رکھی۔ تاہم، کچھ خاص دفعات کے تحت زیادہ آمدنی والے گروپوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تھا۔
فی الحال، نئے ٹیکس نظام میں 3 لاکھ روپے تک کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ فی الحال، 3 لاکھ سے 7 لاکھ روپے کے درمیان آمدنی پر 5 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی 7 سے 10 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ فی الحال 10 سے 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
جانیں کیا ہوگا مہنگا کیا ہوگا سستا: موبائل فون،ٹی وی اور الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی سستی
نئی دہلی ،یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے عام بجٹ پیش کیا جاچکا ہے۔ بجٹ میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان ہوچکا ہے۔ مرکزی وزیر کی جانب اب تک پیش کردہ بجٹ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ موبائل فون سے لیکر الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوں گی۔کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات پر بھی راحت کی خبر سنائی ہے۔ بجٹ کے اعلانات کے مطابق ای وی اور موبائل بیٹری سستی ہوگی،ایل ای ڈی،ایل سی ڈی کی قیمت کم ہوگی۔
فلیٹ پینل مہنگا ہوگا،لیتھم آئن بیٹری سستی ہوگی،کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی 36دوائیں سستی ہوں گی،موبائل فون،الیکٹرک کار سستے ہوں گے،چمڑے سے بنی ہوئیں چیزیں سستی ہوں گی،کپڑے کا سامان سستا ہوگا،میڈیکل آلات سستے ہوں گے،82 اشیاء سے ٹکس ہٹانے کا اعلان کیا گیا،بھارت میں بنے ہوئے کپڑے سستے ہوں گے،بنکروں کے بنائے کپڑے سستے ہوں گے،الیکٹرانک کے اشیا کی قیمت کم ہوں گی،سمندری پیداوار بھی سستے ہوں گے۔
کانگریس کو پسند نہیں آیا عام بجٹ، عام آدمی کیلئے غیر مفید قرار دیا
نئی دہلی ، یکم فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کا مرکزی بجٹ 2025-26 پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو گولی کے زخموں پر پٹی کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نظریات کے حوالے سے کھوکھلی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لیے بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔اس سے قبل کانگریس نے مرکزی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے حقیقی اجرت میں کمی، مجموعی کھپت میں اضافے کی کمی، سست نجی سرمایہ کاری کی شرح اور پیچیدہ جی ایس ٹی نظام جیسی بیماریوں کا علاج نہیں ہے جس سے معیشت تکلیف کا شکار ہے۔
کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت وہاں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے اتحادی نتیش کمار کی حکومت اور اسی اتحاد کا ایک اہم حصہ آندھرا پردیش کو نظر انداز کرتے ہوئے بہار کو بڑا تحفہ دے رہی ہے۔کانگریس کے سربراہ ملکارجن کھرگے نے مرکزی بجٹ پر تنقید کی اور کہا کہ یہ مودی حکومت کی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے، جبکہ وہ اہم اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ گزشتہ دہائی میں 54.18 لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کے بعد متوسط طبقے کو برائے نام راحت دی گئی۔
کھرگے نے کہا، وزیر خزانہ خود یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 12 لاکھ روپے تک کی چھوٹ کے نتیجے میں سالانہ 80 ہزار روپے کی بچت ہوگی، جو ہر ماہ صرف 6,666 روپے ہے۔ اس وقت پورا ملک مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے۔ لیکن مودی حکومت جھوٹی تعریف کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور پسماندہ طبقات کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔کھرگے نے کہاکہ مودی جی نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن کچھ نہیں ہوا،کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ زرعی آلات پر جی ایس ٹی کی کوئی رعایت نہیں ہے اور دلت، قبائلی، پسماندہ، غریب اور اقلیتی بچوں کے لیے کوئی صحت، تعلیم یا اسکالرشپ اسکیم نہیں ہے۔



