نئی دہلی؍بھوپال ، 7جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بلی بائی ایپ کیس کے ماسٹر مائنڈ اور تخلیق کار نیرج بشنوئی کو مدھیہ پردیش کے ایک انجینئرنگ کالج سے معطل کر دیا گیا ہے۔ کالج کے ایک اہلکار نے جمعہ کو اس کی جانکاری دی۔ ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (VIT) بھوپال کیمپس کے طالب علم نیرج بشنوئی کو پولیس نے جمعرات کو آسام کے جورہاٹ سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے کہا ہے کہ 21 سالہ بشنوئی اس کیس کا کلیدی سازش کار ہے اور متنازع ایپ بنانے میں ملوث تھا ،جس پر ہتک عزت کے مقصدسے سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر جنسی نیلامی کے لیے لگائی گئی تھیں۔
اہلکار نے کہا کہ کیس میں نیرج بشنوئی کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوتے ہی وی آئی ٹی انتظامیہ نے ملزم طالب علم کے خلاف کارروائی کی۔ وی آئی ٹی بھوپال کیمپس مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع سیہور میں واقع ہے۔
انتظامیہ نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے اور بعد میں سیہور پولیس سے اطلاع ملنے کے بعد کلیدی ملزم نیرج بشنوئی کو کالج سے فوری طور پر معطل کر دیا۔ آگے جو تفصیلات سامنے آئیں گی ان کی بنیاد پر انتظامیہ اگلی کارروائی کرے گی۔سیہور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیر یادو نے کہا کہ کالج حکام کے مطابق بشنوئی بی ٹیک کورس میں سال دوم (سکینڈ ایئر) کا طالب علم ہے اور اب تک اس نے آن لائن کلاسز لی ہیں، کیونکہ کرونا کی وجہ سے آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کالج حکام کے مطابق بشنوئی ایک ہونہال طالب علم تھا۔دہلی پولیس نے کہا کہ نیرج بشنوئی کو جورہاٹ سے قومی راجدھانی لایا گیا تھا جہاں اس نے اس معاملہ میں اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے ، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ امر نہایت ہی افسوسناک ہے کہ نیرج نے جرم کے اعتراف کر کے کہا اسے اپنے اس قبیح عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے ۔
بلّی بائی کیس: ملزم شویتا اور مینک کو تین دن کی پولس حراست ، باندرہ کورٹ کا حکم
ممبئی کی باندرہ عدالت نے بلی بائی کیس کے ملزم شویتا سنگھ اور میانک راوت کو تین دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ دونوں کو اتراکھنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے منگل 4 جنوری کو، ممبئی کی سائبر پولیس نے شویتا کو اودھم سنگھ نگر ضلع کے رودر پور سے گرفتار کیا۔
مینک کو بھی اسی رات کوٹ دوار سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ان دونوں کو مزید کارروائی کے لیے ممبئی لے آئی تھی۔اتراکھنڈ سے حراست میں لئے گئے دونوں ملزمان طالب علم ہیں۔ ردر پور سے گرفتار لڑکی 12ویں پاس ہے اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہی تھی۔
اسی دوران کوٹ دوار سے حراست میں لیا گیا نوجوان دہلی کے ایک کالج میں زیر تعلیم ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شویتا ٹوئٹر پر تین اکاؤنٹ چلا رہی تھیں۔ ٹوئٹر کے ذریعے انہوں نے ایک مخصوص کمیونٹی کی خواتین کے لیے بولی لگائی تھی۔
اسی وقت، میانک نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بلی ایپ سے متعلق بھی پوسٹ کیا تھا۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ شویتا نیپالی نوجوان سے رابطے میں تھی۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل (اکاؤنٹ) کا نام تبدیل کر لیا تھا۔ یکم جنوری کو، اس نے بلی بائی ایپ کے ذریعے خواتین کی بولی لگوائی۔