ایم پی عتیق کے بیٹے اسد کی تدفین،عتیق بیٹے کے جنازے میں شامل نہ ہوسکے
باہوبلی عتیق احمد کے بیٹے اسد کو ہفتہ کی صبح 10 بجے الٰہ آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا
الٰہ آباد،15 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سابق ایم پی اورگودی میڈیا کے ذریعہ خطاب دیئے گئے باہوبلی عتیق احمد کے بیٹے اسد کو ہفتہ کی صبح 10 بجے الٰہ آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ پولیس نے اسد کے نانا حامد علی سمیت صرف 20-25 رشتہ داروں کو قبرستان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ عتیق بیٹے کے جنازے میں شرکت نہ کر سکے۔ جنازے کے دوران قبرستان کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ پولیس کی سیکورٹی بھی سخت تھی۔ اسد اور غلام کی لاشوں کو صبح 9.30 بجے جھانسی سے پریاگ راج لایا گیا۔ اسد کی میت کو عتیق کے گھر کی بجائے سیدھا قبرستان لے جایا گیا۔ اسی دوران غلام کی لاش کو پریاگ راج میں ہی مہدوری قبرستان لے جایا گیا،اوروہیں اس کی تدفین کردی گئی ۔ پولیس نے مقامی لوگوں کو قبرستان سے 200 میٹر دور روک دیاتھا۔ میڈیا کو بھی داخلہ نہیں دیا گیا۔ چکیا میں عتیق کے گھر سے لے کر قبرستان تک ہر قدم پر فورس تعینات تھی۔
اس سے پہلے جمعہ کی رات 1.30 بجے پولیس اور رشتہ دار پولیس کی حفاظت میں دونوں کی لاشوں کو لے کر جھانسی سے روانہ ہوئے۔دونوں کویوپی ایس ٹی ایف نے جمعرات کو جھانسی میں ایک مبینہ انکاؤنٹر میں مار دیا تھا۔ دونوں 24 فروری کو پریاگ راج میں امیش پال قتل کیس میں مفرور تھے۔ یوپی پولس نے ان دونوں پر 5-5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ عتیق نے بیٹے کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے عدالت میں درخواست دی تھی۔ تاہم سماعت نہ ہو سکی۔ عتیق کے وکیل وجے مشرا بھی اسد کی آخری رسومات میں پہنچے تھے۔ قبرستان سے نکلنے کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے وقت سے پہلے اسد کو حوالے کر دیا گیا، اسی وجہ سے عدالت میں درخواست دائر نہیں ہو سکی، ہمارا مطالبہ تھا کہ بیٹے اسد کی نماز جنازہ میں عتیق کو بھی شریک ہونے کا موقع دیا جائے، شائستہ پروین یہاں موجود نہیں تھی۔ خیال رہے کہ جواں سال اسد اور غلام کے انکاؤنٹر پر حزب اختلاف سوال اٹھارہے ہیں ،جبکہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انکاؤنٹر کرنے والے پولیس حکام کی حوصلہ افزائی کی ہے۔



