تلنگانہ کی خبریںسرورق

نواب میر برکت علی خان سرکار ی اعزاز کے سپرد ِخاک

نواب میر برکت علی خان کی تدفین تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں با دیدۂ نم تاریخی مکہ مسجد کے احاطہ میں واقع مقبرہ آ صف جاہی سلاطین میں عمل میں آئی۔

حیدرآباد، 17جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نواب میر برکت علی خان کی تدفین تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں با دیدۂ نم تاریخی مکہ مسجد کے احاطہ میں واقع مقبرہ آ صف جاہی سلاطین میں عمل میں آئی۔ قبل ازیں پولیس نے سلامی پیش کی۔جنازے پر بصد عقیدت و احترام پر چم آ صفی رکھا گیا تھا۔ نماز جنازہ مکہ مسجد میں بعد نماز عصر حافظ و قاری ڈاکٹر رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے پڑھائی۔ جلوس جنازہ اور نماز جنازہ میں شاہی خاندان کے اراکین ،علمائے دین ،مشائخ عظام ،سیاسی ،سماجی قائدین کے علاوہ ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی۔چومحلہ پیالیس خلوت سے جلوس جنازہ نکالا گیا جو مختلف راستوں سے ہو تے ہوئے مکہ مسجد پہنچا۔قبل ازیں مکرم جاہ بہادر کا جسد خاکی 17 جنوری منگل کی شام بذریعہ طیارہ ترکی کے استنبول سے حیدرآباد لایاگیا۔

burial of nawab mir barkat ali khan with full official honours
مکرم جاہ بہادر کے انتقال پر محمد عبدالمقتدر (سیاست) میت کا دیدار کیا اور فاتحہ خوانی کی

حیدرآباد کے شمس آباد ایرپورٹ پر تمام امور کی تکمیل کے بعد جسد خاکی کو پرانے شہر کے قلب میں واقع چومحلہ پیالیس خلوت منتقل کیاگیا جہاں شام 7بجے سے 10بجے تک سرکردہ شخصیتوں ، آصف جاہی خاندان کے ارکان ، متعلقہ ٹرسٹوں کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ملازمین کو دیدار اور دعائے مغفرت کا موقع فراہم کیا گیا۔سرکردہ سیاسی ،سماجی اور مذہبی قائدین نے پہنچ کر آخری دیدار کیا اور مکرم جاہ کی سابقہ اہلیہ پرنسیس اسری جاہ، فرزند عظمت جاہ و دیگر افراد خاندان کو پرسہ دیا۔18جنوری کو صبح 8 بجے سے ایک بجے دوپہر تک عوام کو آخری دیدار کا موقع دیا گیا۔خواتین کی کثیر تعداد نے بھی میت کا آخری دیدار کیا۔ صبح سے ہی چومحلہ پیالیس پر عوام کا تانتا بندھا ہوا تھا۔سابق ریاست حیدرآباد دکن کے آخری فرمانروا کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button