لیک شدہ آڈیو نے ہلچل مچا دی: بش–پوتن گفتگو میں پاکستان پر نیوکلیائی پھیلاؤ کے الزامات
پاکستان پر تشویش، مشرف سے بات کرنے کا ارادہ,لیک شدہ آڈیو
ماسکو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا میں نیوکلیائی اسلحہ کے پھیلاؤ سے متعلق ایک پرانی مگر نہایت حساس گفتگو سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ گفتگو تقریباً دو دہائیاں قبل جارج ڈبلیو بش اور ولادمیر پوتن کے درمیان ہوئی تھی، جس کی آڈیو اب لیک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ بات چیت 16 ستمبر 2005 کو وائٹ ہاؤس کے اوول دفتر میں ہوئی تھی۔
لیک شدہ آڈیو میں دونوں رہنماؤں نے مبینہ طور پر اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستان کے ذریعے نیوکلیائی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے نہ صرف عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ بھی ہموار کی۔ گفتگو میں یہ بات بھی کہی گئی کہ شمالی کوریا اس کوشش میں کامیاب ہو چکا ہے۔
آڈیو کے مطابق جارج بش نے اس وقت پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف سے اس معاملے پر براہِ راست گفتگو کرنے کے ارادے کا ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کے طرزِ عمل پر تشویش ظاہر کی اور اسے نیوکلیائی عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیا۔
بات چیت کے دوران بش نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے سبب اسرائیل فوجی کارروائی کر سکتا ہے، اور خاص طور پر ایران کے نطنز شہر کا حوالہ دیا گیا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ برسوں بعد جون 2025 میں خطے میں کشیدگی کے دوران امریکہ کی جانب سے نطنز پر بی-2 بمبار طیاروں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں، جس نے اس پرانی گفتگو کو ایک نئی معنویت دے دی۔
لیک آڈیو میں ولادمیر پوتن یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ ایران کو پاکستان سے یورینیم مل رہا ہے، جس پر بش نے بھی اتفاق کا اظہار کیا۔ بش نے گفتگو میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایسے مذہبی انتہا پسند عناصر نہیں چاہییں جو نیوکلیائی اسلحے سے لیس ہوں۔ پوتن نے پاکستان میں جمہوریت کی عدم موجودگی، فوجی بالادستی اور مغربی دنیا کی جانب سے ناکافی دباؤ پر بھی تنقید کی۔
پاکستان نے 1998 میں اپنے پہلے نیوکلیائی تجربات کیے تھے۔ عالمی اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس تقریباً 170 نیوکلیائی ہتھیار موجود ہیں۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس 50 سے زائد نیوکلیائی اسلحے ہیں، اور ماضی میں اس کے پروگرام میں بیرونی مدد کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اگر اس آڈیو کی صداقت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ انکشافات نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی طاقتوں کے ماضی کے فیصلوں اور دوہرے معیار پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر سکتے ہیں۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لیک عالمی نیوکلیائی سیاست کے کئی پوشیدہ پہلوؤں کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ رپورٹ دستیاب معلومات اور لیک شدہ آڈیو سے منسوب دعوؤں پر مبنی ہے، سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق یا تردید کا انتظار ہے۔



