
ضمنی انتخاب 2022: 7 میں سے 4 نشستوں پر بی جے پی کا جلوہ، مکامہ میں راجد کاتو اندھیری ایسٹ میں ادھو خیمہ کا پرچم بلند
نئی دہلی ، 6نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بی جے پی نے ملک کی چھ ریاستوں میں 3 سے 7 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میںاپنا پرچم بلند کیا ہے۔ اتوار کو آنے والے نتائج میں جہاں بی جے پی نے چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، وہیں آر جے ڈی، ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اور ٹی آر ایس بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔ بہار میں آر جے ڈی اور یوپی کی گولا گوکن ناتھ سیٹ پر بی جے پی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔لکھیم پور کی گولا گوکن ناتھ سیٹ سے بی جے پی امیدوار امن گری جیتے ہیں ۔ یہاں سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان وقار کی جنگ تھی۔ بی ایس پی اور کانگریس نے ضمنی انتخاب میں اپنے امیدوار نہیں اتارے تھے، جس کی وجہ سے بی جے پی اور ایس پی کے درمیان اہم مقابلہ دلچسپ ہوگیاتھا۔وہیں بہار کی دونوں اسمبلی سیٹوں میں سے راشٹریہ جنتا دل نے مکامہ نشست اپنے نام کیا، جب کہ بی جے پی نے گوپال گنج سیٹ جیت لی ہے۔ مکامہ میں آر جے ڈی کی نیلم دیوی نے بی جے پی کی سونم دیوی کو شکست دی۔ ‘
یہ سیٹ آر جے ڈی ایم ایل اے اننت سنگھ کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔بی جے پی نے باہوبلی للن سنگھ کی بیوی کو یہاں اننت سنگھ کی بیوی کے سامنے کھڑا کیا تھا۔ یہ سیٹ بی جے پی ایم ایل اے سبھاش سنگھ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔یہاں سے لالو یادو کے بہنوئی سادھو یادو نے بہوجن سماج پارٹی سے اپنی بیوی کو میدان میں اتارا تھا۔ ان کا مقابلہ آر جے ڈی کے موہن گپتا سے تھا۔ہریانہ کے حصار کی آدم پور سیٹ پر ووٹوں کی گنتی کے دوران بی جے پی کی بھاویہ بشنوئی تمام راؤنڈ میں آگے رہیں۔ انہوں نے کانگریس کے امیدوار جے پرکاش (جے پی) کو شکست دی۔
شیوسینا کی امیدوار ریتوجا لٹکے نے ممبئی کی اندھیری ایسٹ سیٹ پرجیت درج کی۔ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں منگوڑو ضمنی انتخاب جیت لیا ہے۔ کانگریس ایم ایل اے کومیتا ریڈی کے استعفیٰ دینے کے بعد اس سیٹ پر ضمنی انتخاب ہوا تھا۔ منگوڑو سیٹ کے لیے کل 47 امیدوار میدان میں تھے، لیکن اصل مقابلہ بی جے پی کے امیدوار راج گوپال ریڈی اور ٹی آر ایس کے سابق ایم ایل اے کوسو کنتلا پربھاکر ریڈی اور کانگریس کی پی شراونتی کے درمیان تھا۔بی جے پی امیدوار اور آنجہانی لیڈر وشنو سیٹھی کے بیٹے سوریا ونشی سورج نے اڈیشہ کے بھدرک ضلع کی دھام نگر اسمبلی سیٹ جیت لی ہے۔ یہاں بیجو جنتا دل نے تہیری بلاک صدر اونتی کو میدان میں اتارا تھا اور کانگریس نے بابا ہری کرشنا سیٹھی کو انتخابی میدان میں اتارا تھا۔
دھام نگر سیٹ پر بی جے پی ایم ایل اے وشنو سیٹھی کی موت کے بعد ضمنی انتخاب ہوا تھا۔ یہاں ضمنی انتخاب کو 2024 کا سیمی فائنل سمجھا جا رہا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2019 سے اب تک ریاست میں کل پانچ ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔جس میں بیجو جنتا دل نے یکطرفہ جیت درج کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ ملک کی جن چھ ریاستوں میں سے سات سیٹوں کے نتائج آچکے ہیں، ان میں سے چھ سیٹیں موت کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ ان سات سیٹوں میں سے تین بی جے پی کے پاس، دو کانگریس کے پاس اور ایک ایک سیٹ آر جے ڈی اور ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کے پاس تھی۔



